پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے تحت برشور اور شیرانی میں بڑے جلسوں کا اعلان، وسائل پر قبضے اور بدامنی کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کے زیر اہتمام عیدالاضحیٰ کے چوتھے روز 30 مئی بروز ہفتہ برشور بازار میں ایک عظیم الشان جلسہ عام منعقد کیا جائے گا جبکہ عید کے پانچویں روز 31 مئی بروز اتوار ضلع شیرانی میں ایک ضلعی کانفرنس اور جلسہ عام کا انعقاد ہوگا۔
پریس ریلیز کے مطابق ان دونوں اہم عوامی و سیاسی اجتماعات سے پارٹی کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ سمیت مرکزی، صوبائی اور ضلعی رہنما خطاب کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال، پشتونخوا وطن میں بڑھتی ہوئی بدامنی، دہشت گردی، لاقانونیت، قومی وسائل پر قبضے، غیر قانونی الاٹمنٹس، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور معدنی وسائل کی لوٹ مار کے خلاف عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
پارٹی نے نام نہاد “مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025” کو مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے پشتونخوا وطن کے وسائل پر قبضے کی سازش قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ وفاقی ادارے خطے کے معدنی وسائل پر ناجائز کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ مقامی آبادی کو ان کے حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ پشتونخوا وطن کے وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے اور کسی بھی صورت میں قومی وسائل پر بیرونی قبضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مختلف اضلاع میں لاکھوں ایکڑ اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹس کے باعث مقامی آبادی مشکلات کا شکار ہے، جنہیں فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔
جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ پارٹی نے جنگلات کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پشتونخوا وطن میں بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور شاہراہوں پر لوٹ مار کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ حکومتی ادارے عوام کے تحفظ میں ناکام نظر آتے ہیں۔
پارٹی نے مطالبہ کیا کہ خطے میں فوری طور پر امن و امان بحال کیا جائے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
آخر میں عوام، نوجوانوں، طلبہ، مزدوروں، کسانوں اور دیگر طبقات سے اپیل کی گئی کہ وہ ان جلسوں میں بھرپور شرکت کریں تاکہ قومی حقوق، وسائل، امن اور ترقی کے لیے جدوجہد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
