دن دہاڑے ٹرامہ سینٹر سول ہسپتال کی مشینری کی منتقلی عوامی صحت پر ڈاکہ ہے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان نے محکمہ صحت کی جانب سے بدھ کو دن دہاڑے ٹرامہ سینٹر سول ہسپتال کی قیمتی مشینری کو زبردستی اور دیدہ دلیری کے ساتھ ٹرامہ سینٹر اسپنی روڈ منتقل کرنے کے اقدام کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف مشینری کی منتقلی نہیں بلکہ عوام کے علاج، ایمرجنسی سہولیات اور سرکاری صحت کے نظام پر کھلا ڈاکہ ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ محکمہ صحت میں براجمان بعض افسران اور بااثر عناصر خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، اسی لیے آئے روز ایسے افسوسناک اور غیر قانونی اقدامات دیکھنے میں آرہے ہیں۔ کبھی شیخ زید ہسپتال سریاب کی قیمتی مشینری خفیہ انداز میں بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کی جاتی ہے اور اب ٹرامہ سینٹر سول ہسپتال کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ محکمہ صحت میں اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے انہیں تباہ کرنے کی منظم پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک مکمل فعال ٹرامہ سینٹر، جہاں کئی سالوں سے تربیت یافتہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف سینکڑوں ایمرجنسی مریضوں کو بروقت طبی سہولیات فراہم کررہے ہیں، اسے جان بوجھ کر غیر فعال کرنا عوام دشمن، ڈاکٹر دشمن اور ادارہ دشمن سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ محکمہ صحت کے بعض عناصر اپنی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور ذاتی مفادات کو چھپانے کے لیے سرکاری اداروں کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اگر یہ اقدام قانونی، شفاف اور عوامی مفاد میں ہوتا تو مشینری کو اس طرح دن دہاڑے طاقت کے زور پر منتقل نہ کیا جاتا۔ یہ عمل واضح کرتا ہے کہ محکمہ صحت میں بیٹھے بعض افراد نہ قانون کی پرواہ کرتے ہیں، نہ عوامی مفاد کی، اور نہ ہی مریضوں کی زندگیوں کی اہمیت ان کے نزدیک کوئی معنی رکھتی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک طرف حکومت بلوچستان میڈیا میں بڑے بڑے دعوے کرتی ہے کہ صوبے بھر میں جدید ٹرامہ سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جبکہ دوسری جانب ایک فعال اور عوامی ضرورت کے حامل ٹرامہ سینٹر کو جان بوجھ کر ختم کیا جارہا ہے۔ یہ دوغلی پالیسی، بدترین نااہلی اور عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔بلوچستان میں حالیہ برن سانحات کے دوران پہلے ہی متعدد مریض ناکافی سہولیات، ناقص انتظامات اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کے باعث اذیت ناک صورتحال سے گزر کر جان کی بازی ہار چکے ہیں، مگر محکمہ صحت نے ان سانحات سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ آج بھی میرٹ، سروس ڈیلیوری اور عوامی مفاد کے بجائے من پسند افراد کو نوازنے، اقرباپروری اور اداروں کی بندربانٹ کو ترجیح دی جارہی ہے۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان واضح کرتی ہے کہ: ٹرامہ سینٹر سول ہسپتال سے منتقل کی گئی تمام مشینری فوری طور پر واپس لائی جائے۔
ٹرامہ سینٹر سول ہسپتال کو مکمل طور پر فعال رکھا جائے۔
اس غیر قانونی اقدام میں ملوث تمام افسران اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
برن سینٹرز کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ کا یونٹ ڈیکلیئر کرکے برن اور پلاسٹک سرجری کے ماہرین کے حوالے کیا جائے۔
محکمہ صحت میں جاری سیاسی مداخلت، اقرباپروری اور ادارہ دشمن پالیسیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اس عوام دشمن اقدام کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں، وکلاء، سول سوسائٹی، صحافی تنظیموں اور عوامی نمائندوں سے رابطے میں ہے۔ اگر فوری طور پر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو بھرپور احتجاجی تحریک، اور سخت عوامی ردعمل کا آغاز کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان اور محکمہ صحت پر عائد ہوگی۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان واضح کرتی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں، عوامی وسائل اور مریضوں کے علاج پر شب خون مارنے والوں کے سامنے خاموش نہیں بیٹھا جائے گا۔ محکمہ صحت کو تباہ کرنے کی ہر سازش کے خلاف ہر فورم پر بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
