ملک بھر میں مہنگائی، بدامنی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرے، آئینی تحریک جاری رکھنے کا اعلان


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں ملک بھر میں مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، بیروزگاری، بدامنی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
پریس ریلیز کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت کوئٹہ، پشین، چمن، قلعہ سیف اللہ، سبی، زیارت، لورالائی، ہرنائی اور ژوب سمیت مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے۔ کوئٹہ میں ہونے والے مرکزی مظاہرے اور جلسے کی صدارت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے کی۔
جلسے سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان، پی ٹی آئی رہنما محترمہ منورہ بلوچ، مجلس وحدت المسلمین کے علامہ مقصود ڈومکی اور پی ٹی آئی ضلع کوئٹہ کے صدر سردار زین العابدین خلجی نے خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض کبیر افغان نے انجام دیے۔
مقررین نے کہا کہ ملک میں آئین کی پامالی، عدلیہ اور میڈیا پر پابندیاں، اور سیاسی احتجاج پر قدغنیں افسوسناک ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمران عوام کو مہنگائی، بدامنی اور بیروزگاری کے سوا کچھ نہیں دے سکے۔
مقررین نے کہا کہ ملک کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان کے علاج معالجے کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چمن اور دیگر بارڈر پوائنٹس پر تجارتی پابندیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، لہٰذا کسٹم کلیئرنس نظام کے تحت تجارت بحال کی جائے۔
مقررین نے ملک میں بڑھتی ہوئی بدامنی، اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ ذمہ داری پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔
انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، جمہوریت کے فروغ اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

WhatsApp
Get Alert