یو اے ای میں 23 لاکھ پاکستانیوں سے 10 ہزار بندہ ڈی پورٹ ہو بھی جائے تو رولا ڈالنے کی ضرورت نہیں، خواجہ آصف
متحدہ عرب امارات میں موجود سب کے سب پاکستانی امام مسجد تو نہیں ہیں، اُن میں وارداتیے اور بھکاری بھی ہیں، قوانین کی خلاف ورزی پر ایسے لوگوں کو ڈی پورٹ کرنا اُن کا حق ہے؛ وزیر دفاع کی گفتگو

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے ایک سخت اور غیر روایتی مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ امارات میں مقیم تمام پاکستانی شریف شہری نہیں ہیں، بلکہ وہاں جرائم، بھیک مانگنے اور دیگر ناقابلِ بیان گھناؤنے دھندوں میں ملوث افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جس کے خلاف ایکشن لینا یو اے ای حکومت کا قانونی حق ہے۔
سماء ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کتےے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں اس وقت 23 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، اور یہ سب کے سب وہاں امام مسجد تو نہیں لگے ہوئے، ان 23 لاکھ میں ‘وارداتیے’ یعنی مجرم بھی شامل ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں پیشہ ور بھکاری بھی وہاں پہنچ چکے ہیں، امارات جانے والے کئی پاکستانی وہاں جا کر ایسے ‘قابلِ فخر’ اور انتہائی قابلِ اعتراض پیشوں اور دھندوں سے وابستہ ہو چکے ہیں جنہیں زبان پر لایا اور سرِعام بتایا بھی نہیں جا سکتا۔
متحدہ عرب امارات میں 23 لاکھ پاکستانی ہیں سب کے سب امام مسجد تو نہیں ہیں اُن میں وارداتیے بھی ہیں بھکاری بھی ہیں اور بھی ایسے پیشوں سے وابستہ ہیں جو بتائے نہیں جا سکتے قوانین کی خلاف ورزی پر ڈی پورٹ کرنا اُنکا حق ھے 23 لاکھ میں سے دو چار ہزار یا دس ہزار بندہ ڈی پورٹ ھو بھی جائے… pic.twitter.com/Hr673BCj1h
— Muzamil (@muzamil_45) May 23, 2026
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستانیوں کی تاریخ ایسی نہیں تھی اور وہ کبھی بھی ایسے غیر قانونی یا اخلاق باختہ کاموں میں ملوث نہیں پائے گئے تھے، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے، جب لوگ وہاں جا کر قوانین کی خلاف ورزی کریں گے، تو اماراتی حکام کا پورا حق بنتا ہے کہ وہ ایسے عناصر کو اپنے ملک سے نکال باہر کریں، اگر 23 لاکھ پاکستانیوں میں سے دو چار ہزار یا 10 ہزار جرائم پیشہ بندے ڈی پورٹ ہو بھی جائیں، تو اس پر ملک میں رولا ڈالنے یا واویلا مچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
