’خانہ کعبہ کو دیکھا تو یقین نہیں آرہا تھا‘ بنگلہ دیشی عازمِ حج


مکہ مکرمہ(قدرت روزنامہ)مکہ مکرمہ میں اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بنگلہ دیشی عازمِ حج نے بتایا کہ وہ سکیورٹی فورسز میں ملازمت کرتے تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد رب کریم کے فضل و کرم سے اس برس حج کی سعادت نصیب ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا ہےکہ ’پہلی بار کعبہ شریف کو سامنے دیکھ کر یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں کرۂ ارض کے مقدس ترین مقام پر موجود ہوں۔ میں جب فریضے کی ادائیگی کے لیے تیاری کر رہا تھا تو اس وقت بہت کچھ سوچا تھا کہ خانہ کعبہ کو دیکھوں گا تو یہ دعائیں کروں گا، مگر جب بیت اللہ کا دیدار نصیب ہوا تو زبان سے ایک ہی دعا نکلی کہ رب کعبہ ہماری تمام جائز خواہشات اور آرزوں کو پورا کر اور امتِ مسلمہ کو حامی و ناصر ہو۔‘
بنگلہ دیش سے آنے والے ایک اور عازم حج مفتی عبدالمنان نے بتایا کہ انہوں نے پہلا حج 2004 میں کیا، بعدازاں متعدد بار فریضہ ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی‘۔
سعودی حکومت کے حج انتظامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’ہر سال انتظامات میں نمایاں بہتری دکھائی دے رہی ہے، ہماری دعا ہے کہ رب کریم سعودی حکومت کے اس عملِ خیر کو قبول فرمائے جو وہ رب کے مہمانوں کی خدمت کے لیے کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے ’لاحج بلا تصریح‘ (پرمٹ کے بغیر حج نہیں) بہترین اقدام ہے، اس طرح غیرضروری ازدحام پر بھی قابو پایا جاتا ہے اور بیرون ملک سے آنے والے حجاج کو بھی مناسک کی ادائیگی میں سہولت ہوتی ہے۔

’مکہ روٹ انیشیٹیو ایک بہترین پروگرام‘
دوسری جانب پاکستان سے تعلق رکھنے والے عازم حج غفران ظہیر خان نے بتایا کہ وہ اسلام آباد سے پہلی بار فریضہ حج ادا کرنے آئے ہیں، اسلام آباد ایئرپورٹ پر ’مکہ روٹ‘ انیشیٹیو کے تحت بہترین انتظامات دیکھنے میں آئے، اگرچہ اس بارے میں سنا ضرور تھا مگر جب خود اس تجربے سے گزرا تو اس منصوبے کا اندازہ ہوا۔
’جب ہم جدہ ایئرپورٹ پہنچے تو ہمیں یہ کہا گیا کہ ٹرمنل سے براہ راست بسوں میں سوار ہو جائیں آپ کا سامان مکہ مکرمہ کے ہوٹل میں مل جائے گا، اس وقت تو ہمیں عجیب سا لگا مگر جب ہوٹل پہنچے تو سامان ہم سے پہلے ہی پہنچ چکا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ مکہ روٹ انیشیٹیو ایک بہترین پروگرام ہے۔

WhatsApp
Get Alert