کراچی میں پسند کی شادی پر جوڑے کے قتل کیس میں لڑکی کا سگا بھائی گرفتار، ملزم کا اعترافِ جرم
بہن کی عابد گوپانگ سے ساڑھے 3 لاکھ روپے میں منگنی ہوئی، لیکن بہن نے اس منگنی کو نہ مانا اور پسند کی شادی کرلی، عابد نے پیسوں کی واپسی کا تقاضا کیا، پیسے نہ ملنے پر جوڑے کے قتل کی شرط رکھی تھی؛ اعترافی بیان

کراچی(قدرت روزنامہ)کراچی کے علاقے ملیر میں پسند کی شادی کرنے والے میاں بیوی کے ہولناک قتل کے کیس میں کراچی پولیس نے چند ہی گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کرلیا، پولیس کی کارروائی کے دوران مقتولہ نادیہ کے سگے بھائی کو گرفتار کیا گیا ہے، جس نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے اس دہرے قتل کے پیچھے چھپی شرمناک ڈیل کے بارے میں بھی بتادیا۔
پردہ چاک کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی کے علاقے ملیر سعود آباد میں پاسپورٹ آفس کے سامنے کار پر اندھا دھند فائرنگ کر کے میاں بیوی کو قتل کرنے کی واردات غیرت کے نام پر قتل اور پیسوں کے لین دین کا شاخسانہ نکلی، پولیس نے مقتولہ نادیہ کے بھائی کو گرفتار کر لیا ہے، جس نے اپنے بہنوئی اور سگی بہن کو پیشہ ورانہ مہارت سے قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔
گرفتار ملزم نے پولیس تفتیش میں جرم کا اعتراف کرتے ہوئے اس قتل کی جو وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ عابد گوپانگ نامی شخص کے ساتھ ہماری بہن نادیہ کی منگنی ہوئی تھی، جس کے بدلے عابد گوپانگ سے ساڑھے 3 لاکھ روپے لیے گئے تھے، لیکن بہن نے اس منگنی کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پسند سے کورٹ میرج کرلی اور گھر سے چلی گئی، جس پر عابد گوپانگ شدید طیش میں آ گیا اور اس نے اسے اپنی شدید توہین سمجھا، اور اس نے پیسوں کی واپسی کا تقاضا کردیا۔
کراچی: پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے قتل میں ملوث ملزم گرفتار#ARYNews pic.twitter.com/CpbxyOmDQ6
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) May 26, 2026
ملزم نے بتایا کہ جب بہن کی شادی کے بعد عابد گوپانگ سے معاملے کو سلجھانے کی بات کی گئی، تو اس نے شرط رکھی کہ اگر پیسے واپس نہیں کرنے، تو عید الاضحیٰ سے پہلے پہلے اپنی بہن کو قتل کر کے میری غیرت کا بدلہ لو، عابد گوپانگ کی اسی شرط اور دباؤ کے تحت اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا اور ملیر میں نادرا پاسپورٹ آفس کے باہر بہن اور بہنوئی کا پیچھا کرکے انہیں کار کے اندر ہی گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔
ایس ایس پی کورنگی اور تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ بھائی کی گرفتاری کے بعد اب پولیس کی خصوصی ٹیمیں مرکزی کردار عابد گوپانگ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہیں، جو اس قتل کا بنیادی ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار ہے، پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ سچل تھانے میں درج سابقہ مقدمے کے وقت اس خاندان اور عابد گوپانگ کا کیا کردار تھا اور کیا عدالت سے دفعہ 63 سی آر پی سی کے تحت ریلیف ملنے کے بعد ہی یہ سازش تیار کی گئی تھی۔
