پاکستانی فری لانسرز نے 10 ماہ میں 95 کروڑ ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ کمالیا

پاکستانی فری لانسرز نے بھارت، چین، امارات اور کئی ممالک کے فری لانسرز سے بہتر کارکردگی دکھائی


کراچی(قدرت روزنامہ)پاکستانی فری لانسرز نے متعدد مقامی و عالمی مشکلات کے باوجود رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران 95کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کا زرمبادلہ کمایا ہے۔
اس مدت (جولائی 2025ء تا اپریل 2026ء) کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے بھارت، چین، متحدہ عرب امارات اور کئی دیگر ممالک کے فری لانسرز سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق کمپیوٹر اور انفارمیشن سروسز کے شعبے میں فری لانسنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی برآمدی آمدن جولائی تا اپریل کے دوران 95کروڑ 90لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 64 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔
اس طرح سالانہ بنیاد پر 49 فیصد یعنی 31 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے صدر اور سی ای او ڈاکٹر عمران بٹادا نے بتایا کہ فری لانسرز کی آمدن میں اضافہ مختلف فری لانسنگ پلیٹ فارمز، بشمول اپ ورک، فائیور اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستانی فری لانسرز کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے باعث ممکن ہوا۔
عمران بٹادا کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں فری لانسنگ کے بارے میں آگاہی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں افراد نے آن لائن لرننگ، نجی اداروں، حکومتی تربیتی پروگراموں اور مختلف این جی اوز کے اقدامات کے ذریعے مہارتیں حاصل کیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عمران بٹادا 5 مرتبہ گلوبل سی آئی او ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں اور 25 ہزار سے زائد فری لانسرز کو تربیت دے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فری لانسنگ کمیونٹی کا حجم تقریباً 30لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور حکومت، بینکاری شعبے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے باہمی تعاون سے اس تعداد میں منظم انداز میں مزید اضافہ ہونا چاہیے۔

WhatsApp
Get Alert