ابراہم معاہدہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں، خواجہ آصف کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبے پر جواب

اس سلسلے میں پاکستان سے امریکی محکمہ خارجہ یا کسی بھی بین الاقوامی فورم سے رابطہ نہیں کیا گیا، نہ تو کوئی پسِ پردہ پیشرفت ہو رہی ہے، نہ ہی دنیا کی کسی طاقت نے ہمیں ایسا کرنے کا کہا ہے؛ وزیر دفاع کی گفتگو


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ابراہم معاہدے کو قبول کرنے کے مطالبے کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے لیے ابراہیمی معاہدہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے کیونکہ یہ ملک کے بنیادی نظریات اور خارجہ پالیسی کے اصولوں سے سنگین تضاد رکھتا ہے، انہوں نے میڈیا پر چلنے والی ان افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا کہ پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی پسِ پردہ دباؤ یا رابطہ کام کر رہا ہے۔
وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ معاہدہ ابراہیمی کے حوالے سے پاکستان سے امریکی محکمہ خارجہ یا کسی بھی دوسرے بین الاقوامی فورم سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، اس سلسلے میں نہ تو کوئی پسِ پردہ پیشرفت ہو رہی ہے اور نہ ہی دنیا کی کسی طاقت نے ہمیں ایسا کرنے کے لیے کہا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے دیرینہ اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے دنیا کو یاد دلایا کہ ابراہیمی معاہدہ ہمارے بنیادی قومی اور اسلامی نظریات سے متصادم ہے، ویسے بھی دنیا کو یاد ہونا چاہیے کہ ہمارے پاسپورٹ پر واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا دنیا کے تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے، یعنی ہمارے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں ہے۔
غزہ کی موجودہ ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ معاہدے کی اب بھی کھلم کھلا اور مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جن کا ایک دن کا بھی اعتبار نہیں، ان کے ساتھ کسی معاہدے کی میز پر کیسے بیٹھا جا سکتا ہے؟۔ خیال رہے کہ یہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت تمام اہم مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا، امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے زیرِ بحث ممالک میں سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر اور اردن شامل ہیں، تمام مسلم ممالک کیلئے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنا لازمی ہے، سعودی عرب اور قطر کو اس معاہدے پر دستخط کرنے میں پہل کرنی چاہیے، تاہم میں ایک یا دو ممالک کے دستخط نہ کرنے کی جائز وجہ قبول کرلوں گا، متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی اس معاہدے کا حصہ ہیں، اگر ایران جنگ بندی معاہدہ کرلے تو اسے ابراہیمی معاہدے کا حصہ بنانا میرے لیے اعزاز ہوگا۔
امریکی صدر کے غیر روایتی انداز پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اسی اچھوتے اور غیر روایتی اندازِ سیاست کی وجہ سے کامیاب ہو رہے ہیں اور دنیا میں ان کے جتنے بھی امن مذاکرات تھے اب وہ کسی حد تک رنگ لا رہے ہیں، لیکن جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، تو وہ فلسطین کے معاملے اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کے اصولی وژن سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

WhatsApp
Get Alert