پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر ساتھوں سمیت ہنزہ سے گرفتار، صوبہ بدر کردیا گیا
پارٹی قیادت نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے پری پول ریگنگ قرار دے دیا ہے۔

ہنزہ(قدرت روزنامہ)گلگت بلتستان پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر خان کو ساتھوں سمیت گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ سے گرفتار کرنے کے بعد صوبہ بدر کردیا ہے جب کہ پارٹی قیادت نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے پری پول ریگنگ قرار دے دیا ہے۔
جمعے کو پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان گلگت بلتستان میں الیکشن مہم کے سلسلے میں مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے تھے کہ انہیں ہنزہ کے مقام پر حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ اراکینِ قومی اسمبلی سلیم الرحمان، سید محبوب شاہ، ڈاکٹر امجد علی خان اور ایم پی اے نعیم خان کو بھی جنید اکبر کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔
صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کوگلگت بلتستان پولیس نے اراکینِ قومی اسمبلی سلیم الرحمٰن، سید محبوب شاہ ڈاکٹر امجد علی خان اور ایم پی اے نعیم خان کے ہمراہ گرفتار کر لیا۔
کیا سیاسی عمل کو دبانے اور انتخابی مہم سے روکنے سے یہ لوگ عمران خان کو عوام کے دلوں سے نکال… pic.twitter.com/bNVXwiWD7W— Junaid Akbar (@JunaidAkbarMNA) May 29, 2026
گرفتاری کے موقع پر جنید اکبر کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا کہ ان کے پاس این او سی موجود نہیں، اس لیے وہ گلگت سے واپس چلے جائیں، جس پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں؟
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر اور اراکینِ قومی اسمبلی سلیم الرحمان، سید محبوب شاہ ڈاکٹر امجد علی خان اور ایم پی اے نعیم خان اور نائب صدر نواز خان کو گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کر دیا گیا۔
گلگت بلتستان میں عاصم لأ کے تحت جاری پری پول دھاندلی کی ایک اور مثال
صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان ، اراکینِ قومی اسمبلی سلیم الرحمٰن، سید محبوب شاہ ڈاکٹر امجد علی خان اور ایم پی اے نعیم خان کو “صوبہ بدر” کر دیا گیا۔
جبکہ باقی تمام جماعتوں کے رہنما کھلم کھلا… pic.twitter.com/5hu6VsxTHI
— PTI (@PTIofficial) May 29, 2026
بیرسٹر گوہر کی مذمت
واقعے کے بعد پارٹی قیادت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے جنید اکبر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں الیکشن مہم کے دوران گرفتار کیا گیا، جو قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن مہم سے روکنا پری پول ریگنگ ہے اور الیکشن کمیشن کو تمام جماعتوں کو یکساں انتخابی مہم چلانے کا موقع دینا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں لوگوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہونی چاہیے اور گلگت بلتستان میں سیاسی اسپیس نہ دینا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
سہیل آفریدی کا رد عمل
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی جنید اکبر اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر پارلیمنٹیرینز کو رہا نہ کیا گیا تو وہ خود گلگت بلتستان جائیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جعلی حکومت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایسے اقدامات ملک میں نفرت اور تقسیم کو بڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانے کے لیے جمہوری نظام کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ان کی کال کا جواب نہیں دے رہے اور گلگت بلتستان کو نو گو ایریا نہیں بننے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ووٹ کی طاقت سے جواب دیں گے۔
