بے حسی اور نالائقی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!
اب ازراہِ کرم ہمیں کوئی ’دہشتگردی کی اطلاع‘ والی روایتی کہانی سنانے کی کوشش نہ کی جائے؛ ٹریفک کی جبری بندش کے باعث پرواز مس ہونے پر خواجہ سعد رفیق کا ردعمل

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والے راستوں پر اچانک ٹریفک کی جبری بندش اور راولپنڈی پولیس کی جانب سے ناکہ بندی کے باعث نا صرف پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ایئرپورٹ جانے سے روک دیا گیا، بلکہ مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما خواجہ سعد رفیق سمیت درجنوں مسافروں کی پروازیں بھی مس ہو گئیں۔
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ روڈ پر ٹریفک کی اچانک بندش کی وجہ سے مسافروں اور سیاسی رہنماؤں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ سکھر، گلگت اور سکردو جانے والے مسافر گھنٹوں گاڑیوں کی لمبی قطاروں میں پھنسے رہے، جس کے باعث ایئرپورٹ روڈ پر اور ہوائی اڈے کے باہر افراتفری کا منظر دیکھنے میں آیا۔
بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور سابق سپیکر اسد قیصر اس وقت پریشانی کا شکار ہوئے جب وہ سکردو جانے کے لیے اسلام آباد ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوئے تھے، لیکن راولپنڈی پولیس کی جانب سے راستے بند ہونے کے باعث انہیں آگے جانے سے روک دیا گیا، ایئرپورٹ روڈ کی اس جبری بندش کی وجہ سے گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں اور عام شہریوں کو بھی شدید زحمت اٹھانی پڑی۔
معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق بھی اس بندش کی وجہ سے سکردو کی فلائٹ نہ لے سکے، انہوں نے اس صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلی بیان جاری کیا، ان کا کہنا ہے کہ ’آج مجھے انتخابی مہم کے سلسلے میں سکردو جانا تھا اور میں وقت پر اسلام آباد ایئرپورٹ کے باہر پہنچ گیا تھا لیکن وہاں دیکھا کہ راولپنڈی پولیس نے ایئرپورٹ جانے والی تمام ٹریفک کو زبردستی روک رکھا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بہت کوشش کے باوجود پولیس حکام کی طرف سے اس ٹریفک بلاکڈ کی کوئی معقول یا قانونی وجہ بیان نہیں کی گئی، ایئر بلیو انتظامیہ نے ایئرپورٹ کے گیٹ پر ٹریفک کی اس جبری بندش کو دیکھنے کے باوجود دیدہ و دانستہ فلائٹ کو وقت سے پہلے ہی کلوز کر دیا، جس کی وجہ سے سکردو جانے والے مجھ سمیت 13 مسافروں کی فلائٹ مِس ہو گئی۔

سابق وفاقی وزیر نے ایئرپورٹ کے باہر کے مناظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے گرد سینکڑوں مسافر، جن میں خواتین، معصوم بچے اور بزرگ شامل تھے، شدید گرمی میں رل رہے تھے، کئی دوسری پروازوں کے مسافروں کا بھی یہی حال ہوا اور لوگوں کے پروگرام خراب ہو گئے، گھنٹوں کی خجل خواری کے بعد ہم واپس لوٹ آئے، بے حسی اور نالائقی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اب ازراہِ کرم ہمیں کوئی ‘دہشت گردی کی اطلاع’ والی روایتی کہانی سنانے کی کوشش نہ کی جائے۔
