محمود خان اچکزئی کے خلاف چمن میں جلسے پر مقدمہ درج، ریاستی اداروں پر تنقید اور روڈ بندش کے الزامات

چمن / کوئٹہ (قدرت روزنامہ) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے خلاف چمن پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جلسے کے دوران مبینہ طور پر موجودہ حکومت اور ریاستی اداروں پر سخت تنقید کی، سڑک کو عوامی آمد و رفت کے لیے بند کیا اور شہریوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی۔
تفصیلات کے مطابق یہ مقدمہ چیئرمین ہلال احمر عبدالولی غبیزئی ولد عبدالغفار خان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر نمبر 38/26 ای ٹیگ نمبر CMH-5/29/2026-13 کے تحت تعزیرات پاکستان کی دفعات 153A، 505، 131، 341، 147، 149 اور لوڈ اسپیکر ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز درخواست گزار ہائی اسکول تاج روڈ چمن میں موجود تھا جہاں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا جلسہ گورنمنٹ ہائی اسکول کے گراؤنڈ میں جاری تھا۔ جلسے میں تقریباً 650 سے 700 افراد شریک تھے۔
درج متن کے مطابق محمود خان اچکزئی نے خطاب کے دوران کہا کہ بلوچستان میں آئے روز گاڑیوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے اور صوبائی حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر موجودہ حکومت کو “فارم 47 کے جعلی حکمران” قرار دیا اور پاک فوج کے مقابلے میں مختلف قبائل سے افراد لے کر ایک متبادل فورس بنانے کی تجویز دی۔
ایف آئی آر میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے چمن کے پاکستانی شہریوں کو افغان تذکرے بنانے کی ترغیب دی، جس سے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان نفرت اور اشتعال پھیلانے کی کوشش کی گئی۔
پولیس کے مطابق جلسے کے دوران مرکزی سڑک کو رسی لگا کر بند کیا گیا، جس سے عام شہریوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقررین نے ریاستی اداروں کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے اور لاوڈ اسپیکر کا غیر قانونی استعمال کیا۔
مدعی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام الزامات کے ثبوت کے طور پر ویڈیو شواہد بھی پیش کیے گئے ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
