محمود خان اچکزئی پر مقدمہ درج کرنا قابلِ مذمت اور آزادیِ اظہارِ رائے پر کھلا حملہ ہے، تحریک تحفظ آئین پاکستان

حق گوئی کو جرم اور عوامی نمائندگی کو سزا دینے کی شرمناک کوشش کی گئی، سیاسی انتقام پر مبنی بے بنیاد مقدمہ فوری واپس لیا جائے، ترجمان حسین احمد یوسفزئی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی نے کہا ہے کہ قائد حزبِ اختلاف اور تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی پر چمن کے جلسے میں حقائق بیان کرنے کی پاداش میں مقدمہ درج کرنا قابلِ مذمت، افسوسناک اور آزادیِ اظہارِ رائے پر کھلا حملہ ہے۔
اپنے ایک سخت مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے اپنے علاقے کے عوام کے مسائل، مشکلات اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے جو مؤقف اختیار کیا، وہ دلیل، حقائق اور زمینی حقائق پر مبنی تھا۔ بدقسمتی سے جبر، تسلط اور اختلافی آوازوں کو دبانے کی روش اپنانے والے عناصر یہ برداشت نہ کر سکے کہ کوئی عوامی نمائندہ ریاستی پالیسیوں پر تنقیدی اور حقائق پر مبنی گفتگو کرے۔ اسی عدم برداشت کے نتیجے میں ان کے خلاف بے بنیاد اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ہم اس کارروائی کو نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ آئینی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں کے خلاف مقدمات اور دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کرکے سچائی کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے اقدامات ریاستی اداروں کے وقار میں اضافے کے بجائے عوام اور اداروں کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کرتے ہیں۔
حسین احمد یوسفزئی نے مزید کہا کہ یہ مقدمہ دراصل حق گوئی کو جرم اور عوامی نمائندگی کو سزا دینے کی ایک شرمناک کوشش ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ریاستی طاقت کے بل پر سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنا، جھوٹے مقدمات میں الجھانا اور اختلافِ رائے کو کچلنے کی پالیسی کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے کے لیے باعثِ ننگ ہے۔ اگر عوام کے مسائل بیان کرنا اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنا جرم قرار دیا جائے تو یہ جمہوریت، آئین اور بنیادی انسانی حقوق کے منہ پر ایک سنگین طمانچہ ہوگا۔ ایسے آمرانہ اور انتقامی اقدامات نہ صرف سیاسی درجۂ حرارت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ عوام کے اندر شدید بے چینی، بداعتمادی اور ردِعمل کو بھی جنم دیتے ہیں۔
انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ محمود خان اچکزئی کے خلاف درج کیا گیا یہ بے بنیاد مقدمہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور سیاسی اختلافِ رائے کو جرم بنانے کی روش ترک کی جائے۔ جمہوری معاشروں میں مسائل کا حل مقدمات، دھمکیوں اور دباؤ میں نہیں بلکہ مکالمے، برداشت اور آئین و قانون کی بالادستی میں ہوتا ہے۔ یہی راستہ قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کے فروغ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert