امریکا ایران معاہدہ، مودی بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے

واشنگٹن (قدرت روزنامہ)جی 7 اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی کے درمیان ملاقات میں ایران معاہدے، آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی بار بار کی فرمائش پر بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر ان سے ملاقات کے لیے راضی ہو ہی گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملاقات میں ایران کے ساتھ حالیہ معاہدے، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، عالمی تجارت، توانائی کی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے نئی امید پیدا کرتی ہے۔

نریندر مودی نے کہا کہ بھارت ہمیشہ سفارتی حل، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن خاتمے کا حامی رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔

بھارتی وزیراعظم نے اس موقع پر آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ کو کھلا رکھنا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بھارت مسلسل آزادیٔ جہاز رانی کی حمایت کرتا آیا ہے کیونکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی جہاز رانی کو معمول پر لانے کی جانب اہم قدم ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ عالمی توانائی کی رسد اور تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے سمندری راستوں کا محفوظ اور کھلا رہنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں بھارتی آئل ٹینکر کو اصول و ضوابط کی خلاف ورزی اور ہدایات کو نظرانداز کرنے پر امریکی فوج نے نشنہ بنایا تھا جس میں 3 بھارتی ملاح مارے گئے تھے۔

WhatsApp
Get Alert