امریکا کا بھارت کو بڑا جھٹکا، فوجی کمان سے ’انڈو‘ کا نام غائب، پینٹاگون کے فیصلے نے نئی دہلی میں کھلبلی مچا دی

واشنگٹن (قدرت روزنامہ)امریکا نے خطے میں اپنی سب سے اہم اور سب سے بڑی فوجی کمان کا نام تبدیل کرتے ہوئے ’امریکی انڈو-پیسیفک کمانڈ‘ کو تبدیل کرتے ہوئے پرانے نام ’امریکی پیسیفک کمانڈٔ‘ پر بحال کر دیا ہے۔

امریکا کے اس اچانک فیصلے کے بعد بھارت کے سیاسی، دفاعی اور اسٹرٹیجک حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور اسے مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوجی کمان کو اس کے تاریخی نام پر واپس لایا جا رہا ہے، جس کے تحت یہ کمان 7 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک کام کرتی رہی تھی۔

2018 میں ٹرمپ نے نام تبدیل کیا تھا
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں، 2018 کے دوران امریکا کی’پیسیفک کمانڈ‘ کا نام تبدیل کر کے ‘انڈو-پیسیفک کمانڈ‘ رکھا گیا تھا۔

اُس وقت واشنگٹن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بحرِ ہند کی بڑھتی ہوئی اسٹرٹیجک اہمیت اور بحرالکاہل کے سیکیورٹی ماحول کے گہرے تعلق کے پیشِ نظر یہ تبدیلی ناگزیر ہے۔

اس اقدام کو بھارت کی بڑھتی ہوئی علاقائی اہمیت اور امریکا، بھارت دفاعی شراکت داری کی ایک بڑی علامت کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

امریکی دفاعی حکام کے مطابق موجودہ فیصلے کا مقصد کمان کی تاریخی شناخت اور ورثے کو بحال کرنا ہے۔ یہ کمان یکم جنوری 1947 کو اُس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے قائم کی تھی اور دہائیوں تک اسی نام سے جانی جاتی رہی۔

پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ نام کی تبدیلی سے کمان کے اختیارات، آپریشنل دائرہ کار یا ذمہ داریوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اس کی حدود امریکی مغربی ساحل سے لے کر بھارت کی مغربی سرحد تک کے وسیع علاقے پر برقرار رہیں گی۔

امریکی فیصلے کے سامنے آتے ہی بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت ’کانگریس‘ نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ 2018 میں جب کمان کا نام ’انڈو-پیسیفک‘ ہوا تھا، تو بی جے پی حکومت نے اسے مودی کی ایک عظیم سفارتی کامیابی اور ان کی عالمی مقبولیت کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ اب جبکہ امریکا نے خاموشی سے ’انڈو‘ کا لفظ ہٹا دیا ہے، تو مودی حکومت نے چپ سادھ لی ہے۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ مودی حکومت امریکا کے سامنے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کانگریس کے سینیئر رہنما اور ماہرِ خارجہ امور ششی تھرور نے اس پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’ ’کیا یہ فیصلہ ’کواڈ‘اتحاد کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا؟‘۔ انہوں نے لکھا کہ ’کواڈ کے تابوت میں ایک اور کیل‘ ٹھونک دی گئی۔

WhatsApp
Get Alert