ایران معاہدہ ابھی حتمی نہیں، شرائط پوری نہ ہونے پر فوجی کارروائی کا آپشن موجود رہےگا، ڈونلڈ ٹرمپ


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جمعہ کو متوقع مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہے۔
بدھ کو جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر تہران نے معاہدے کی شرائط پر عمل نہ کیا تو واشنگٹن دوبارہ فوجی کارروائی کرنے میں تامل نہیں کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر انہیں معاہدے پر عمل درآمد کا طریقہ کار پسند نہ آیا تو امریکا دوبارہ ’بمباری اور فوجی ایکشن‘ کی طرف واپس جا سکتا ہے۔
عالمی منڈیوں میں خوشی کی لہر
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمت پر عالمی مالیاتی منڈیوں کے مثبت ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کار اس پیش رفت سے مطمئن ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا ایران میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا، تاہم اگر کوئی خلیجی ملک ایسا کرنا چاہے تو واشنگٹن کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
ایران کا اسرائیل کو سخت جواب دینے کا انتباہ
دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر امریکی ثالثی میں ہونے والے لبنان جنگ بندی معاہدے کی 84 بار خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بھی ہدف تنقید بنایا اور مطالبہ کیا کہ انہیں لبنان کے معاملے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایرانی تیل کی ترسیل جاری
واضح رہے کہ ٹینکر ٹریکرز کے مطابق ایرانی تیل لے جانے والا تیسرا ٹینکر امریکی بحری ناکہ بندی کی لائن عبور کر کے خلیجِ عمان سے گزر چکا ہے۔ یہ پیش رفت ایران کی تیل برآمدات روکنے کی امریکی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھی جا رہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert