ڈاکٹر ماہ نور ناصر کا واقعہ پورے طبی شعبے اور قانون کی حکمرانی پر سنگین حملہ ہے،متاثرہ ڈاکٹر کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے بااثر عناصر کو تحفظ دیا جا رہا ہے، حکومت کی بے حسی قابلِ مذمت ہے، صاحبہ بڑیچ اور عارفہ صدیق


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی مرکزی سیکریٹری محترمہ صاحبہ بڑیچ اور صوبائی سیکریٹری برائے خواتین و انسانی حقوق، سابق رکن صوبائی اسمبلی محترمہ عارفہ صدیق نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک واقعہ نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے طبی شعبے، خواتین کے تحفظ، انسانی وقار اور قانون کی حکمرانی پر ایک سنگین حملہ ہے۔ اس واقعے نے صوبے میں خواتین اور پیشہ ور افراد کے تحفظ کے حوالے سے گہرے سوالات کو جنم دیا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس معاملے میں اختیار کی گئی بے حسی، غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ دارانہ روش انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ فوری، شفاف اور مؤثر کارروائی نہ کیے جانے سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ متاثرہ ڈاکٹر کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے بااثر عناصر کو تحفظ دیا جا رہا ہے، جو انصاف کے تقاضوں اور قانون کی بالادستی کے منافی ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار سول ہسپتال کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے قائم احتجاجی کیمپ کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی اور پشتونخوا ایس او کے خواتین ونگ کے ممبران، ڈاکٹرز، طبی عملے، خواتین کارکنوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ مقررین نے احتجاجی کیمپ کے شرکاء سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔
محترمہ عارفہ صدیق نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ صوبے میں خواتین کے تحفظ، پیشہ ور افراد کے وقار، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے نہایت تشویشناک ہے۔ اگر ایک ڈاکٹر، جو دن رات انسانی جانوں کو بچانے اور عوام کی خدمت کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہو، خود عدم تحفظ کا شکار ہو جائے تو عام شہریوں کے تحفظ کے بارے میں خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ہراسانی، تشدد اور عدم تحفظ کا سامنا ہونا ایک مہذب اور جمہوری معاشرے کے لیے باعثِ شرم ہے اور اس کی روک تھام کے لیے ریاستی اداروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے نے ہمیشہ انتہائی مشکل اور غیر معمولی حالات میں بھی عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کی ہیں۔ خصوصاً کورونا وبا اور دیگر ہنگامی حالات میں طبی عملے نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر انسانیت کی خدمت کی اور فرنٹ لائن پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج یہی طبقہ عدم تحفظ، ہراسانی، تشدد اور انتظامی بے توجہی کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ طبی عملے کے جان و مال اور عزت و وقار کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
محترمہ صاحبہ بڑیچ نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہاں خواتین، ڈاکٹرز، اساتذہ، صحافیوں اور دیگر پیشہ ور افراد کو کس حد تک تحفظ اور آزادی حاصل ہے۔ اگر معاشرے کے یہ اہم طبقات عدم تحفظ کا شکار ہوں تو اس کے منفی اثرات پورے سماج پر مرتب ہوتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو اس واقعے کو محض ایک انفرادی معاملہ سمجھنے کے بجائے ایک سنجیدہ سماجی اور انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر لینا چاہیے۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی اعلیٰ عدلیہ کے ذریعے مکمل، شفاف، غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کی جائیں، ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے اور متاثرہ ڈاکٹر کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، نرسوں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی ہمیشہ انسانی حقوق، خواتین کے وقار، سماجی انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی ہر قسم کے ظلم، ناانصافی، ہراسانی، جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ پارٹی ڈاکٹر ماہ نور ناصر اور پوری طبی برادری کے جائز مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
بیان کے اختتام پر حکومت بلوچستان، محکمہ صحت، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کریں، خواتین، ڈاکٹروں اور دیگر پیشہ ور افراد کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو اور معاشرے میں قانون کی حکمرانی مضبوط ہو سکے۔

WhatsApp
Get Alert