گرینڈ الائنس کے ملازمین پر تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت، مطالبات فی الفور تسلیم کیے جائیں: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں گرینڈ الائنس کے ملازمین کی گرفتاریوں، ان پر لاٹھی چارج، تشدد اور مختلف تھانوں میں بند کیے جانے کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر سرکاری ملازمین اپنے جائز، آئینی اور قانونی مطالبات کے حق میں صوبائی اسمبلی کے سامنے پرامن احتجاج کرنا چاہتے تھے، لیکن حکومت نے جمہوری رویہ اختیار کرنے، مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کرنے اور ملازمین کے تحفظات سننے کے بجائے طاقت، جبر، گرفتاریوں اور تشدد کا راستہ اپنایا، جو نہ صرف افسوسناک بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ صوبے کے سرکاری ملازمین گزشتہ کئی ماہ سے اپنے معاشی حقوق، تنخواہوں میں پائی جانے والی تفریق کے خاتمے، سروس اسٹرکچر کی بہتری اور دیگر بنیادی مطالبات کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) سمیت دیگر مطالبات نہ صرف جائز اور قانونی ہیں بلکہ حکومت مختلف مواقع پر ان مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کرا چکی ہے۔ اس کے باوجود حکومتی وعدوں پر عمل نہ ہونے کے باعث ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور انہیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ بجٹ کسی بھی حکومت کی معاشی ترجیحات اور عوامی فلاح و بہبود کے عزم کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے جس روز بجٹ پیش کیا گیا، اسی روز اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے سرکاری ملازمین کو تشدد، گرفتاریوں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جو حکومت کے رویے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ مسائل طاقت، دھونس، گرفتاریوں اور تشدد سے حل نہیں ہوتے بلکہ سنجیدہ مذاکرات، باہمی اعتماد اور عملی اقدامات کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سرکاری ملازمین ریاستی نظام کا ایک اہم ستون ہیں اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کرنا، ان پر تشدد کرنا اور ان کی آواز دبانے کی کوشش کرنا کسی بھی مہذب، جمہوری اور آئینی معاشرے میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ ایسے اقدامات نہ صرف ملازمین کے حوصلے پست کرتے ہیں بلکہ ریاستی اداروں اور حکومت پر عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ پریس ریلیز میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور ڈاکٹر برادری کی جاری احتجاجی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کئی روز سے ڈاکٹرز اپنے پیشہ ورانہ، انتظامی اور سروس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے احتجاجی کیمپ قائم کیے ہوئے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات اور تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کے وحشت ناک واقعے نے پورے طبی شعبے میں شدید تشویش اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ڈاکٹر برادری مسلسل انصاف، تحفظ اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے، لیکن حکومتی بے حسی اور خاموشی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایک طرف سرکاری ملازمین، ڈاکٹرز، اساتذہ، مزدور، طلبہ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد مہنگائی، بے روزگاری، کم آمدنی، معاشی عدم استحکام اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب حکومت ان کے مسائل کے حل کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل جمہوری اصولوں، انسانی حقوق، آئینی آزادیوں اور عوامی مفادات کے سراسر منافی ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ گرینڈ الائنس کے گرفتار تمام ملازمین کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں، زخمی ملازمین کو انصاف فراہم کیا جائے اور ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس سمیت تمام جائز مطالبات پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔ اسی طرح ڈاکٹر برادری کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کا آغاز کیا جائے اور ڈاکٹر معروف اثر پر تشدد کے واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور مؤثر تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ بیان کے آخر میں کہا گیا کہ جمہوری حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام، ملازمین، مزدوروں، طلبہ، ڈاکٹرز اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے مسائل سنیں، ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کریں اور آئین و قانون کے مطابق ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔ اگر حکومت اپنے وعدوں کی پاسداری، عوامی مسائل کے حل اور ریاستی امور کی بہتر انداز میں انجام دہی میں ناکام رہتی ہے اور ہر اختلافی آواز کا جواب گرفتاریوں، تشدد اور جبر سے دیتی ہے تو اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح ہوگا بلکہ جمہوری عمل بھی کمزور ہوگا۔ پریس ریلیز میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، جبر اور محاذ آرائی کا راستہ ترک کرے، گرفتار ملازمین کو رہا کرے، احتجاجی تحریکوں کے نمائندوں سے مذاکرات کرے اور صوبے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ، مثبت اور نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے تاکہ مسائل کا پائیدار حل ممکن ہو سکے اور جمہوری روایات کو فروغ ملے۔

WhatsApp
Get Alert