50 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک ماہانہ تنخواہ لینے والوں کے لیے بڑی خبر

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ 50 ہزار سے لے کر 1 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں پر صرف 1 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹیکس کلیکشن، بجٹ تجاویز، آئی ایم ایف پروگرام اور معاشی صورتحال پر تفصیل سے گفتگو کی۔

عطا تارڑ نے واضح کیا کہ موجودہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے ٹیکس سلیب کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا جس شہری کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے یا اس سے کم ہے، وہ کوئی ٹیکس نہیں دے گا تاہم 50 ہزار سے لے کر 1 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں پر صرف 1 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا واضح وژن ہے کہ ٹیکس نہ دینے والوں کا بوجھ اب ٹیکس دینے والے ایماندار شہریوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ ٹیکس کلیکشن کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نئے ٹربیونلز قائم کر دیے گئے ہیں کیونکہ وزیراعظم کا ماننا ہے کہ جب تک ٹیکس کلیکشن بہتر نہیں ہوگی، ملکی معیشت میں بہتری نہیں آ سکتی۔

انہوں نے ایف بی آر (FBR) کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن رکی ہوئی تھی، کچھ افسران کرپٹ تھے اور کوئی مربوط نظام موجود نہیں تھا، وزیراعظم کے حکم پر اب کسٹم اور انکم ٹیکس کا کوئی بھی افسر سفارش پر تعینات نہیں ہوگا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ٹیکس کلیکشن کا آغاز سب سے پہلے شوگر انڈسٹری سے کیا گیا ہے۔ ماضی میں شوگر ملز مالکان پروڈکشن کم دکھا کر ٹیکس چوری کرتے تھے، لیکن اب مل سے نکلنے والی ہر ایک بوری پر بار کوڈ لگا ہوتا ہے۔

اس سخت مانیٹرنگ کی بدولت صرف شوگر ملز سے 60 ارب روپے کا ٹیکس کلیکٹ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تمباکو کی تجارت کو روکنے کے لیے ٹوبیکو کمپنیز پر بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔

آئی ایم ایف اور ڈیفالٹ کا خطرہ

عطا تارڑ نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ خودکشی کر لیں گے لیکن آئی ایم ایف (IMF) نہیں جائیں گے، مگر وہ پھر بھی گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں آئی ایم ایف سے ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہی نجات حاصل کی ہے۔ اگر پیرس میں وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات نہ کی ہوتی تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا۔

انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ یہ معاشی گنجائش اور ریلیف بہت محنت کے بعد پیدا کیا گیا ہے، اور وزیراعظم نے بارہا کہا ہے کہ جیسے ہی معیشت میں مزید گنجائش بنے گی، عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert