اساتذہ اور ملازمین پر تشدد ناقابلِ قبول، حکمران شاہ خرچیاں ختم کر کے ریلیف فراہم کریں،مولانا ہدایت الرحمن بلوچ

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)امیر جماعت اسلامی بلوچستان اور رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے اساتذہ کرام اور گرینڈ الائنس کے ملازمین پر پولیس تشدد، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی گرینڈ الائنس کے صدر پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ اور دیگر ملازمین کی گرفتاری، شیلنگ اور انہیں جمہوری و آئینی حق سے محروم کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتی سطح پر شاہ خرچیوں کے بجائے سادگی، قناعت اور بچت کو فروغ دیا جائے اور تنخواہوں و مراعات میں اضافے کے بجائے قوم کے معمار اساتذہ کرام اور دیگر ملازمین کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ گرینڈ الائنس کے ملازمین کے ساتھ حکمرانوں کا دہشت گردوں جیسا سلوک کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ اساتذہ کوئی مجرم، چور، لٹیرے یا ڈاکو نہیں ہیں؛ بدترین مہنگائی کے اس طوفان میں اپنے جائز حقوق اور تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جب حکمران طبقہ اپنی مراعات، پروٹوکول اور اخراجات بڑھاتا ہے تو خزانہ خالی نہیں ہوتا، لیکن جب اساتذہ، ملازمین اور محنت کش اپنے جائز حق کی بات کرتے ہیں تو ان کے لیے لاٹھیاں، گرفتاریاں اور سڑکوں پر ذلت مقدر بنا دی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جائز مطالبات اور مسائل و مشکلات کا حل جبر، تشدد اور طاقت کا اندھا استعمال ہرگز نہیں ہے۔ اقتدار، کرسی، پروٹوکول اور اختیارات ہمیشہ رہنے والے نہیں بلکہ یہ عارضی ہوتے ہیں؛ آج جو طاقت کے نشے میں عوام کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں، کل انہیں بھی عوامی عدالت اور تاریخ کے فیصلے کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ استاد کو سڑکوں پر گھسیٹنا صرف ایک فرد کی تذلیل نہیں، بلکہ علم، قلم اور تعلیم کی کھلی بے حرمتی ہے۔ اگر ایک پروفیسر اپنے حق کے لیے بھی محفوظ نہیں تو پھر عام شہری سے انصاف کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ جماعت اسلامی گرینڈ الائنس اور اساتذہ کرام کے تمام جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ گرفتار ملازمین و اساتذہ کو فوری رہا کر کے ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔
