بلوچستان میں غربت اور بے روزگاری: 24 لاکھ افراد ایرانی تیل کی پرخطر اسمگلنگ سے وابستہ


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان میں شدید غربت، بے روزگاری اور روزگار کے فقدان کے باعث تعلیم یافتہ نوجوانوں سمیت ہزاروں افراد ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے پرخطر کاروبار پر مجبور ہیں. ایک جاپانی ویب سائٹ ‘نکئی ایشیا’ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں لگ بھگ 24 لاکھ افراد ایران اور پاکستان کے درمیان ایندھن کی اسمگلنگ کے اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ ہیں، جن میں ڈگری ہولڈرز، ایم اے، بی اے اور گریجویٹ پاس نوجوان بھی شامل ہیں کیونکہ صوبے میں انہیں سرکاری نوکریوں کے مواقع میسر نہیں ہیں. بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق اسمگلر موٹر سائیکلوں پر 272 کلوگرام تک وزنی پلاسٹک کے ڈبے لاد کر مستونگ کی اوپن مارکیٹ سے سندھ تک 218 میل کا طویل اور خطرناک سفر طے کرتے ہیں. یہ سفر بلوچستان کے گرم ترین علاقوں سے ہو کر گزرتا ہے جہاں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے باعث یہ کنٹینرز پھٹنے، تیل کا رسا ہونے اور آگ لگنے کے شدید خطرات ہوتے ہیں جن میں اسمگلر اکثر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں.رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے اور عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں سستے ایرانی ایندھن کی طلب اور اسمگلنگ کے رجحان میں مزید تیزی آئی ہے. انٹیلیجنس ایجنسیوں کی لیک رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریبا ایک ارب ڈالر مالیت کا ایندھن ایران سے پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ملک کی آئل ریفائنریوں اور آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے حکومت کو خط لکھ کر بتایا ہے کہ اسمگلنگ کے باعث پاکستان میں تیل کی قانونی فروخت گزشتہ 27 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے. دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور گزشتہ ایک سال کے دوران سکیورٹی فورسز نے تقریبا 2.3 ارب پاکستانی روپے مالیت کا ایندھن ضبط کیا ہے. تاہم، کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فدا حسین دشتی کا کہنا ہے کہ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے یہ سرگرمی خطے کی معیشت کے لیے ناگزیر بن چکی ہے کیونکہ پاکستان کے کل رقبے کا 44 فیصد ہونے کے باوجود یہاں غربت کی سطح دنیا کے غریب ترین علاقوں جیسی ہے اور حکومت کو یہاں متبادل روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں.

WhatsApp
Get Alert