کوئٹہ ‘ تاجر ہاشم نورزئی کا قتل ‘ لواحقین اور شہریوں کا بلیلی کے مقام پر احتجاجی دھرنا ‘ پاک افغان بین القوامی شاہراہ مکمل بند

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے بلیلی کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف کاروباری شخصیت، ممتاز تاجر اور کابل جان ہوٹل (ریسٹورنٹ) کے مالک ہاشم خان نورزئی جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ حملہ آور فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہاشم خان نورزئی معمول کے مطابق اپنے کاروباری امور میں مصروف تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اچانک فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے، جنہوں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
پولیس حکام کے مطابق قتل کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں اور واقعے کے ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔ جائے وقوعہ سے مختلف شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں جبکہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے سرچ اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔دوسری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ممتاز تاجر ہاشم خان نورزئی کے قتل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے 24 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیر داخلہ کے معاون بابر یوسفزئی کے مطابق میر ضیا اللہ لانگو نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قاتلوں کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ واقعے کی تحقیقات مکمل شفافیت، غیرجانبداری اور پیشہ ورانہ انداز میں کی جائیں تاکہ حقائق جلد از جلد سامنے لائے جا سکیں۔ وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہاشم خان نورزئی کے قتل میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن و امان خراب کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنا رہی ہے۔یو این اے کے مطابق ادھر واقعے کے خلاف مقتول کے لواحقین، عزیز و اقارب، تاجروں اور شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بلیلی کسٹم کے مقام پر ہاشم خان نورزئی کا جسدِ خاکی رکھ کر احتجاجی دھرنا شروع کر دیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک قاتلوں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، اس وقت تک احتجاج اور دھرنا جاری رکھا جائے گا۔
مظاہرین نے حکومت، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مقتول کے اہل خانہ کو انصاف مل سکے اور آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ احتجاج کے باعث بلیلی کسٹم اور اطراف کی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی، جبکہ پولیس کی اضافی نفری علاقے میں تعینات کر دی گئی تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ہاشم خان نورزئی کوئٹہ کی کاروباری برادری میں ایک معروف اور باوقار شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ ان کی اچانک ہلاکت پر تاجروں، سماجی شخصیات اور شہری حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے تاکہ عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔
