عمان کا پاکستانی و دیگر غیرملکی ملازمین کیلئے سوشل پروٹیکشن کا اعلان

مسقط (قدرت روزنامہ) سلطنتِ عمان کی حکومت نے ملک میں مقیم غیرملکی ملازمین کے حقوق اور سماجی تحفظ کے حوالے سے تاریخی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں کام کرنے والے غیرملکی ملازمین کے لیے بھی ‘بیماری کی چھٹی’ اور غیر معمولی چھٹیوں کی انشورنس کوریج کا قانون نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا باقاعدہ آغاز اگلے ماہ 20 جولائی سے ہوگا۔
گلف نیوز کے مطابق عمان کے سوشل پروٹیکشن فنڈ کی جانب سے جاری کردہ نئے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سوشل پروٹیکشن فنڈ کے فیصلہ نمبر 13/2026 کے تحت متعارف کرائی گئی اس نئی پالیسی کے بعد عمان کے لیبر لاء کے تحت آنے والے تمام نجی اداروں، سرکاری انتظامیہ کے یونٹس اور دیگر پبلک قانونی اداروں میں کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین کے لیے اس انشورنس اسکیم کا حصہ بننا لازمی قرار دے دیا گیا۔
معلوم ہوا ہے کہ عمان میں مقامی یعنی عمانی ملازمین کے لیے یہ ‘بیماری کی چھٹی اور غیر معمولی رخصت’ کا انشورنس سسٹم جولائی 2019ء سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے، اس اسکیم میں سرکاری اور نجی شعبے کے تمام مقامی ورکرز، عارضی یا ٹریننگ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین اور ریٹائرڈ افراد بھی شامل ہیں، اب اسی اسکیم کو وسعت دیتے ہوئے غیر ملکیوں کو بھی اس کا مستقل حصہ بنایا جا رہا ہے۔
سوشل پروٹیکشن فنڈ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد عمان کے اندر کام کرنے والی لیبر فورس کے ایک بہت بڑے حصے کو سماجی تحفظ فراہم کرنا اور انشورنس کے فوائد کا دائرہ کار وسیع کرنا ہے، یہ انشورنس عمان کے آفیشل لیبر لاء کے دائرے میں آنے والے تمام ایکسپیٹ ورکرز کے لیے تو لازمی ہے، لیکن یہ دفعات ان غیر ملکی ورکرز پر لاگو نہیں ہوں گی جو لیبر لاء کے دائرے سے باہر ہیں۔
بتایا جارہا ہے کہ غیر ملکیوں کے لیے انشورنس کوریج کا یہ اضافہ سلطنتِ عمان کی ان وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جس کے تحت ملک کے معاشی نظام کو چلانے والی افرادی قوت کے فلاح و بہبود کے تحفظ اور سوشل سیکیورٹی سسٹم کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانا ہے، تاہم گھروں میں کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین جیسے ہاؤس میڈز، ڈرائیورز وغیرہ اس لازمی انشورنس اسکیم کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہیں۔
