میرا بیٹا اپنا ملک سمجھ کر بلوچستان گیا تھا، دشت میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے شہری کے والد کا ردعمل

مجھے معاف کردیں مگر آج کے بعد بلوچستان کوئی نہ جائے، اگر وہ ہمارے ملک کا حصہ نہیں تو ہمیں بتایا جائے اور وہاں لکھا جائے کہ جو جائے گا اپنی ذمہ داری پر جائے گا؛ مقتول کے والد کی جذباتی گفتگو


کراچی(قدرت روزنامہ)بلوچستان کے علاقے دشت میں حالیہ فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں نشانہ بننے والے کراچی کے تاجر علی جمیل کے والد نے اپنے لختِ جگر کے قتل پر رقت آمیز اور دل ہلا دینے والی گفتگو کی ہے، غم سے نڈھال والد نے حکومت اور مقتدر حلقوں سے تلخ سوالات کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے تو وہاں شہریوں کو تحفظ کیوں حاصل نہیں۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے والد نے روتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا تو بلوچستان کو اپنا ہی ملک سمجھ کر وہاں سیر کے لیے گیا تھا، مجھے معاف کر دیں لیکن میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ آج کے بعد کوئی بھی بلوچستان نہ جائے کیونکہ وہاں شہریوں کی جانیں محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے حکام سے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ میں حکومت یا کسی سے کچھ نہیں مانگتا، میری بس اتنی سی التجا ہے کہ میرا بچہ آخری ہونا چاہیے، اس کے بعد کسی اور کا بچہ اس طرح گولیوں کا نشانہ نہ بنے اور کسی اور کا گھر نہ اجڑے۔
مقتول کے والد نے انتظامیہ اور سکیورٹی کے دعوؤں پر گہرے دکھ کے ساتھ سوال اٹھایا کہ اگر وہ ہمارا ملک ہے تو وہ جگہ بھی ہماری اپنی ہونی چاہیئے اور وہاں ہمیں تحفظ ملنا چاہیئے لیکن اگر وہ ہمارے ملک کا حصہ نہیں ہے تو پھر ہمیں صاف صاف بتا دیا جائے اور وہاں بارڈر پر لکھ کر لگا دیا جائے کہ جو بھی آگے جائے گا، اپنی ذمہ داری پر جائے گا تاکہ کوئی معصوم وہاں نہ جائے۔
خیال رہے کہ بلوچستان کے علاقے دشت میں دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا تھا، جس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے تاجر علی جمیل جاں بحق ہوگئے، اس وقعے میں ان کی اہلیہ زخمی ہوئیں، یہ فیملی کراچی سے سیر کیلئے کوئٹہ گیا تھا کہ واپسی پر گوگل میپ کی غلط رہنمائی کی وجہ سے راستہ بھول گئے اور اسی دوران مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔

WhatsApp
Get Alert