کوئٹہ میں 21 سالہ گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ
غیر معمولی گرمی سے نظام زندگی متاثر، طبی ماہرین کی شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت، عوام کا بجلی اور پانی کی بلاتعطل فراہمی کا مطالبہ

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ 21 برسوں کے دوران شہر میں ریکارڈ ہونے والا بلند ترین درجہ حرارت قرار دیا جا رہا ہے۔ غیر معمولی گرمی کی اس لہر نے شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز تک موسم گرم اور خشک رہنے کی پیش گوئی بھی کی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث دن کے اوقات میں سڑکوں، بازاروں اور تجارتی مراکز میں معمول کی چہل پہل نمایاں طور پر کم رہی۔ دوپہر کے وقت تیز دھوپ اور گرم ہواؤں نے گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا، جبکہ کھلے مقامات پر کام کرنے والے مزدور، ریڑھی بان، ٹریفک اہلکار اور دیگر محنت کش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ ماہرین کے مطابق کوئٹہ اپنے نسبتاً معتدل موسم کی وجہ سے جانا جاتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ 41.5 ڈگری سینٹی گریڈ کا ریکارڈ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں موسمی تغیرات کے اثرات مزید شدت اختیار کر رہے ہیں، جس کے باعث شدید گرمی، خشک سالی اور پانی کی قلت جیسے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
شدید گرمی کے باعث بجلی کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ شہری علاقوں میں پانی کی کھپت بڑھنے سے کئی مقامات پر پانی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ شہریوں نے گرمی کی شدت کے باعث ٹھنڈے مشروبات، برف اور پنکھوں و ایئر کولرز کے استعمال میں اضافہ کر دیا، جس سے بازاروں میں بھی غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ موسم میں ہیٹ اسٹروک، جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن)، کمزوری، چکر آنا اور دیگر موسمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ شہریوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور دل و سانس کے مریضوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی اور مشروبات کا استعمال کریں، ہلکے رنگ کے سوتی کپڑے پہنیں اور دھوپ میں نکلتے وقت سر کو ڈھانپنے کا اہتمام کریں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ آنے والے دنوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی غیر معمولی موسمی تبدیلی کی صورت میں بروقت آگاہ کیا جائے گا۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گرمی کی شدت کے پیش نظر پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، بجلی کی بلا تعطل فراہمی برقرار رکھی جائے اور عوامی مقامات پر ہنگامی طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
