علی حیدر آبادی نے ہاتھ میں قرآن اٹھا کر زینب کے الزامات جھوٹ قرار دے دیئے


لاہور (قدرت روزنامہ) اپنی اہلیہ کو طلاق دینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور اہلیہ زینب کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے تحفظ کی اپیل کے بعد معروف ٹک ٹاکر علی حیدر آبادی بھی میدان میں آ گئے، انہوں نے ایک وضاحتی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے اپنی سابقہ اہلیہ کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا اور ہاتھ میں قرآنِ پاک اٹھا کر اپنی بے گناہی کی قسم کھائی ہے۔
تفصیلات کے مطابق علی حیدر آبادی نے ویڈیو میں قرآنِ پاک اٹھا کر کہا کہ “میں اس خاندانی موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا اور یہ میری پہلی اور آخری ویڈیو ہے، لیکن جب میں نے دیکھا کہ زینب میرے خلاف جھوٹی ویڈیوز بنا رہی ہے کہ علی نے میری انگلی اور ہاتھ توڑ دیا، تو مجھے سامنے آنا پڑا”، انہوں نے دعویٰ کیا کہ وائرل ہونے والی طلاق کی ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے زینب پر کوئی تشدد نہیں کیا۔

ٹک ٹاکر کا کہنا ہے کہ انہوں نے طلاق کی ویڈیو جان بوجھ کر خود بنائی تھی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ زینب بعد میں ان پر تشدد کا جھوٹا الزام لگائے گی، ویڈیو کے آخر میں وہ لوگ میرا موبائل چھین رہے تھے تاکہ میں ثبوت لے کر بھاگ نہ سکوں، سسرال والوں نے مجھے گھر سے نکالنے کی پہلے ہی پوری تیاری کر رکھی تھی، میں زینب کے گھر والوں کے کہنے پر ہی ان کے گھر رہ رہا تھا، حالانکہ میں نے خود کرائے پر 5 مرلے کا گھر اور فلیٹ بھی لیا لیکن زینب وہاں رہنے کو تیار نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ “میں زینب کو اپنے ساتھ حیدرآباد لے جانا چاہتا تھا لیکن وہ نہیں گئی، میں تین سال تک اس کے کہنے پر چلتا رہا جس کی وجہ سے ہماری کئی لڑائیاں ہوئیں”، جان سے مارنے کی دھمکیوں کے الزام پر علی حیدر آبادی نے دوبارہ قرآن کی قسم کھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے زینب کو کوئی دھمکی نہیں دی، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زینب ویوز یا کسی اور وجہ سے اتنی گر جائے گی”، ٹک ٹاکر نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے تمام اداروں کی عزت کرتے ہیں اور اگر کسی بھی ادارے نے انہیں بلایا، تو وہ اپنے حق میں تمام ثبوت پیش کرنے کے لیے بالکل تیار ہیں۔

WhatsApp
Get Alert