واپڈا کی نجکاری کیخلاف مزدور تنظیموں کا شدید احتجاج، ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دے دی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ) واپڈا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور مختلف قومی اداروں کی مزدور تنظیموں نے حکومت کی مجوزہ نجکاری اور آؤٹ سورسنگ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ڈسکورز کی مجوزہ نجکاری فوری طور پر روکی جائے، اگر فیصلے واپس نہ لیے گئے تو ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزدور رہنماؤں صدر آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین عبد الطیف نظامانی، سی آئی سی ٹی اے آر ریسرچر ایڈورڈ میلر، جنرل سیکرٹری سی ڈی اے مزدور یونین چوہدری یٰسین، چیئرمین گیپکو ولی الرحمان، چیئرمین آئیسکو جاوید اقبال بلوچ، جنرل سیکرٹری او جی ڈی سی ایل سید اعجاز بخاری، نوید اسلم، ارمغان اللہ و دیگر کا کہنا تھا کہ واپڈا اور اس سے وابستہ کئی تقسیم کار کمپنیاں مسلسل منافع میں ہیں، بعض کمپنیوں کی ریکوری 100 فیصد جبکہ لائن لاسز سنگل ڈیجٹ میں ہیں، اس لیے ان اداروں کی نجکاری کا کوئی معاشی جواز موجود نہیں۔
یونینوں نے ایک نئی تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بجلی پیدا کرنے کے شبے میں نجکاری کی پالیسیوں نے بھی کمپنیوں کو غیر معمولی مالی فوائد پہنچائے اور صارفین کیلیے بجلی بھی مزید مہنگی کی، جبکہ نجی شعبے کی جانب سے بجلی کی حقیقی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا، یہ رپورٹ پبلک سروسز انٹر نیشنل (PSI) اور فریڈرک امیرٹ ٹنلنگ (FES) کی مشترکہ کاوش سے تیار کروائی گئی، جبکہ اسے سینٹر فار انٹرنیشنل کارپوریٹ ٹیکس اکاونبیلٹی اینڈ ریسرچ (CICTAR) نے مرتب کیا۔
رپورٹ کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران بجلی خریداری کے معاہدوں (Power Purchase Agreements) کے تحت آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (IPPS) کو کی جانے والی ادائیگیاں دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ گئیں، جبکہ گزشتہ دو برسوں میں ان ادائیگیوں کا 60 فیصد سے زائد حصہ صرف کیپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈورڈ میلر،(CICTAR Researcher) اور رپورٹ کے مرکزی مصنف نے کہا کہ نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلیے اختیار کی گئی پالیسیاں نجی کمپنیوں کیلیے بھاری منافع کا ذریعہ تو بن رہی ہیں اور صارفین کیلیے بھی مہنگی کر رہی ہیں مگر حقیقی بجلی پیداوار میں اضافہ نہیں کر رہیں، ان میں سے بہت سے معاہدے 2040 کی دہائی تک جاری رہیں گے، جبکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث صارفین قومی گرڈ چھوڑ رہے ہیں اور اس کا مالی بوجھ سب سے کمزور طبقے پر منتقل ہو رہا ہے، بجلی پیدا کرنے کے شعبے میں نجکاری سے پیدا ہونے والا بحران تقسیم کار کمپنیوں کی مزید نجکاری سے حل نہیں ہو گا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں نجی شعبے میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود بجلی کی حقیقی پیداوار میں معمولی اضافہ ہوا، جبکہ اس وقت ملک کی تقریباً دو تہائی بجلی سرکاری شعبے کے بجلی گھروں سے پیدا ہو رہی ہے۔
یونین نمائندوں نے نشاندہی کی کہ کئی نجی کمپنیوں کو بجلی کی پیداوار میں کمی کے باوجود اربوں روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس ادا کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے نتائج سنجیدہ عوامی بحث اور حکومتی نظر ثانی کے متقاضی ہیں، اور کسی بھی مزید نجکاری سے قبل موجودہ بجلی خریداری معاہدوں اور سابقہ نجکاری پالیسیوں کے صارفین، مزدوروں اور قومی معیشت پر اثرات کا ایک آزاد اور شفاف جائزہ لیا جانا چاہیے۔
مزدور رہنماؤں نے کہا کہ سستی اور قابل استطاعت بجلی معاشی ترقی، صنعتی فروغ اور عوامی فلاح کیلیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بجلی کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں گھریلو صارفین اور کاروباری طبقے دونوں پر شدید مالی بوجھ ڈال رہی ہیں، جبکہ ڈسکوز کی نجکاری نہ صرف صارفین پر مزید دباؤ بڑھا سکتی ہے بلکہ سرکاری اداروں کے ملازمین کے روزگار کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر سکتی ہے۔
عبداللطیف نظامانی آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین نے کہا کہ جب نجی کمپنیاں غیر فعال اثاثوں پر اربوں روپے وصول کر رہی ہیں، اسی وقت واپڈا کے کارکن نہایت کم لاگت پر ملکی معیشت کا پہیہ چلا رہے ہیں، نجکاری کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم ہوئیں، غیر مستقل روزگار کو فروغ ملا اور بجلی عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہو گئی بجلی ایک بنیادی عوامی خدمت ہے جس کا انتظام عوامی مفاد اور جمہوری نگرانی کے تحت ہونا چاہیے، ہماری یونین خاموش نہیں بیٹھے گی اور نہ ہی نجی سرمایہ کاروں کو عوام اور ہماری برادریوں سے اربوں روپے منافع سمیٹنے دے گی، ہم بجلی کے شعبے کی مزید نجکاری کی ہر کوشش کی بھر پور مزاحمت کریں گے۔
چوہدری یسین، جنرل سیکرٹری سی ڈی اے مزدور یونین اسلام آباد نے کہا کہ اسی سال مارچ میں سی ڈی اے مزدور یونین نے نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن میں صفائی، پانی کی فراہمی، ماحولیات اور دیگر بنیادی عوامی خدمات کی نجکاری کے خلاف مقدمہ میں انصاف حاصل کیا، یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ نجکاری اور آؤٹ سورسنگ کو منظم اور اجتماعی جد وجہد کے ذریعے روکا جا سکتا ہے، یہی ماڈل پاکستان کے دیگر شعبوں میں بھی اپنانے کی ضرورت ہے، پاکستان کی ٹریڈ یونین تحریک عوامی خدمات کی نجکاری کے خلاف متحد رہے گی کیونکہ ایسی پالیسیاں مزدوروں کو غیر محفوظ روزگار میں دھکیلتی ہیں۔
ریجنل سیکرٹری، پبلک سروسز انٹر نیشنل ایشیا پیسیفک نے کہا کہ یہ نجکاری کا نظام اخلاقی اور معاشی دونوں اعتبار سے ایک سنگین ناکامی ہے، نجی کمپنیاں غیر فعال بجلی گھروں پر اربوں روپے کماتی ہیں جبکہ محنت کش خاندان بڑھتے ہوئے بجلی کے نرخوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں، تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری سے قومی آمدنی کا مزید حصہ عوام کی جیبوں سے نکل کر نجی شعبے کے منافع میں تبدیل ہوگا۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی شرائط پر قومی اثاثے فروخت کر رہی ہے، جس سے نہ صرف ہزاروں ملازمین کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا بلکہ عوام پر بھی بجلی مزید مہنگی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کے بجائے حکومت مزدور تنظیموں سے مذاکرات کرے اور ان کے تحفظات دور کرے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی کے شعبے میں ہزاروں اسامیاں خالی پڑی ہیں، بھرتیاں بند ہیں، شہداء اور ڈیتھ کوٹہ پر بھی تقرریاں نہیں کی جا رہیں جبکہ ملازمین کو طویل اوقات کار پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس کے باعث حادثات اور جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔
مقررین نے دعویٰ کیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجموعی مالی صورتحال بہتر ہے، اس کے باوجود انہیں نجکاری کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیصل آباد سمیت متعدد کمپنیوں نے اربوں روپے منافع کمایا، اس لیے انہیں فروخت کرنا قومی مفاد کے خلاف ہوگا۔
مزدور رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ نجکاری کمیشن پروموشن بورڈز اور دیگر انتظامی معاملات بھی روک رہا ہے، جس سے ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
پریس کانفرنس میں مختلف مزدور فیڈریشنوں، سی ڈی اے، واپڈا اور دیگر سرکاری اداروں کے نمائندوں نے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے نجکاری کا عمل نہ روکا تو ملک بھر کی مزدور تنظیمیں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں گی۔
مزدور رہنماؤں نے وزیر اعظم، وفاقی وزیر توانائی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واپڈا اور دیگر قومی اداروں کی نجکاری فوری طور پر روکی جائے، مزدور تنظیموں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیے جائیں اور قومی اداروں کو فروخت کرنے کے بجائے انہیں مزید مضبوط بنایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ این آر سی میں ہڑتال کا نوٹس پہلے ہی جمع کرایا جا چکا ہے اور مرکزی قیادت کی کال پر پورے ملک میں احتجاج، دھرنے اور ہڑتال سمیت ہر قانونی آپشن استعمال کیا جائے گا۔
