نئی آٹو پالیسی! کیا عام آدمی کے لیے گاڑی خریدنا خواب بن جائے گا؟

اسلام آباد (ـقدرت روزنامہ) مقامی ہائی برڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 8.5 سے بڑھا کر 18فیصد کردیا گیا، جس سے گاڑیوں کی قیمتیں یکدم لاکھوں روپے بڑھ جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق یکم جولائی 2026 سے ملک میں نئے مالی سال کے باقاعدہ آغاز کے ساتھ ہی آٹو سیکٹر کے لیے ایک بڑی اور اہم تبدیلی لاگو کر دی گئی۔

فنانس بل کے تحت گزشتہ 5 سال سے رائج آٹو پالیسی کو باقاعدہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جس کے بعد نئی آٹو پالیسی کے نفاذ تک ہائی برڈ اور پلگ ان ہائی برڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری طور پر بڑے اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

فنانس بل میں ہائی برڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو یکدم بڑھا دیا گیا اور پاکستان میں مقامی سطح پر تیار ہونے والی نئی ہائی برڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 8.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔

بیرون ملک سے امپورٹ کی جانے والی اور مقامی سطح پر تیار ہونے والی تمام پلگ ان ہائی برڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کو 1 فیصد سے بڑھا کر براہِ راست 18 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا گیا ہے۔

فنانس بل کی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس کی ان شرحوں میں کیا جانے والا یہ بھاری اضافہ مستقل نہیں ہے بلکہ ایک عارضی اقدام ہے۔

یہ عارضی ٹیکس شرح نئی آٹو پالیسی کے باقاعدہ آنے اور نافذ ہونے تک لاگو رہے گی، جس کے بعد اس میں دوبارہ ردوبدل متوقع ہے۔

آٹو سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ہائی برڈ اور پلگ ان گاڑیاں بنانے والے مقامی مینوفیکچررز اور امپورٹرز دونوں پر یکساں اثر پڑے گا اور مارکیٹ میں گاڑیوں کی قیمتیں یکدم لاکھوں روپے بڑھ جائیں گی، جس سے خریداروں کا رجحان عارضی طور پر سست پڑ سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert