امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میمورنڈم پر عملدرآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ لبنان ہے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میمورنڈم پر عملدرآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ لبنان ہے، آبنائے ہرمز، جوہری یورینم ، منجمد اثاثوں کے معاملات طے پاجائیں گے، لیکن لبنان کی صورتحال پر دنیا میں بڑی تشویش پائی جارہی ہے۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں حامد میر نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ اسلام آباد میمورنڈم پر عملدرآمد کرانے کی ذمہ داری پاکستان پر ہے، کیونکہ امریکا اور ایران دونوں کی جانب سے صرف پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا جارہا ہے، ان مذاکرات میں قطر، سعودی عرب، ترکی ، مصران ممالک نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے،لیکن سب سے زیادہ ذمہ داری پاکستان کی ہے، اس لئے میمورنڈم کے نام کا حصہ اسلام آباد میمورنڈم بنایا گیا ہے، 60دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے، امریکا اور ایران کے درمیان 47سا ل کی دشمنی اور اختلافات ہے، یہ سب اختلافات 60روز میں ختم کرنے ہیں اور اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر دستخط کرنے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میمورنڈم پر عمل درآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ لبنان کی جنگ ہے اس جنگ کا خاتمہ لبنان اور اسرائیل میں کسی معاہدےسے نہیں ہو گا جسے ایران اور حزب اللّٰہ نہیں مانتے اسکے لئے ضروری ہے کہ لبنان کو اسلام آباد مذاکرات میں شامل کیا جائے، حزب اللّٰہ کو 1989…
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) July 1, 2026
مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے ساتھ ہی دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں نیچے آگئیں، پاکستان کے لوگوں کو بھی بہت فائدہ ہوا ہے۔
لیکن اس کے ساتھ اسلام آباد میمورنڈم کے راستے میں بہت سی رکاوٹیں اور چیلنجز ہیں، امریکا اور ایران ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں پھر مذاکرات کیلئے دوبارہ بیٹھ جاتے ہیں، امکانات یہی ہیں کہ تیکنیکی ایشوز پر اتفاق ہوسکتا ہے لیکن ایک مسئلہ ایسا ہے کہ جس پر امریکا اور ایران کے درمیان معاملات کا طے ہونا بہت مشکل نظر آتا ہے۔اس معاملے کا ذکر 14نکاتی میمورنڈم میں کیا گیا ہے، وہ لبنا ن ہے۔ کہ لبنان کیلئے اسرائیلی فوج سیزفائر کرے گی۔ آبنائے ہرمز ، جوہری یورینیم ، منجمد اثاثوں کے معاملات طے پا جائیں گے، لیکن سب سے بڑا چیلنج لبنان کی صورتحال ہے۔اس پر دنیا میں بڑی تشویش پائی جارہی ہے۔
