کوئٹہ میں غیر قانونی مہاجرین کیخلاف سرچ آپریشن شروع ؛ ہزارہ ٹاون، علمدار روڈ، مومن آباد، ناصر آباد، سید آباد، مشرقی بائی پاس، پشتون آباد، غوث آباد، چالو باوڑی، سبزل روڈ، سریاب روڈ، نواکلی اور دیگر حساس و گنجان آباد علاقوں میں گھر گھر سرچ اور دستاویزات کی جانچ پڑتال


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)وفاقی وزارتِ داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں اور دیگر غیر دستاویزی غیر ملکیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ویری فکیشن آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کارروائیاں جمعرات سے باضابطہ طور پر شروع کی گئی ہیں، جن میں فرنٹیئر کور(ایف سی)، پولیس، حساس ادارے، اسپیشل برانچ، نادرا، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔یو این اے کے مطابق آپریشن کے پہلے مرحلے میں ہزارہ ٹاون، علمدار روڈ، مومن آباد، ناصر آباد، سید آباد، مشرقی بائی پاس، پشتون آباد، غوث آباد، چالو باوڑی، سبزل روڈ، سریاب روڈ، نواکلی اور دیگر حساس و گنجان آباد علاقوں میں گھر گھر سرچ اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کی شناخت، ان کی قانونی حیثیت کی تصدیق اور حکومتی پالیسی کے مطابق کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ذرائع کے مطابق کارروائی صرف رہائشی علاقوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ شہر کے بڑے بس اڈوں، سرائے خانوں، ہوٹلوں، کرایہ کے مکانات، نجی اداروں، ورکشاپس، فیکٹریوں، مارکیٹوں اور دیگر کاروباری مراکز میں بھی جامع چیکنگ کی جائے گی تاکہ غیر قانونی طور پر مقیم یا ملازمت کرنے والے افراد کی نشاندہی کی جا سکے۔حکام کے مطابق آپریشن میں شامل ٹیموں کو جدید ڈیٹا اور متعلقہ ریکارڈ تک رسائی فراہم کی گئی ہے تاکہ شناخت اور تصدیق کے عمل کو مثر بنایا جا سکے۔ قانونی سفری یا رہائشی دستاویزات رکھنے والے افراد کے ساتھ قانون کے مطابق برتا کیا جائے گا، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف امیگریشن قوانین اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن کے دوران کرایہ پر مکانات دینے والے مالکان، ہوٹل مالکان اور نجی اداروں کی انتظامیہ سے بھی ریکارڈ طلب کیا جائے گا تاکہ غیر قانونی رہائش یا ملازمت فراہم کرنے والوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ ضرورت پڑنے پر متعلقہ قوانین کے تحت ان کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔یو این اے کے مطابق شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر بھی نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور مختلف چیک پوسٹوں پر گاڑیوں اور مسافروں کی چیکنگ مزید مثر بنا دی گئی ہے تاکہ غیر قانونی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک روزہ کارروائی نہیں بلکہ مسلسل جاری رہنے والی مہم ہے، جس کا دائرہ کار ضرورت کے مطابق مزید علاقوں تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے، جبکہ تمام کارروائیاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پیشہ ورانہ اور شفاف انداز میں انجام دی جائیں گی۔

WhatsApp
Get Alert