سیوریج کے پانی سے کاشت مضر صحت سبزیوں کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا بڑا کریک ڈاؤن، 22 ایکڑ پر تیار فصلیں تلف


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)صوبائی وزیر و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایات پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سیوریج کے پانی سے کاشت کی جانے والی مضر صحت سبزیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلے میں کوئٹہ کے علاقے سبزل روڈ پر 22 ایکڑ اراضی پر سیوریج کے پانی سے تیار کی گئی گوبھی، پودینہ، دھنیا، خلفہ، پیاز اور چقندر کی فصلیں تلف کر دی گئیں۔ کارروائی ڈائریکٹر آپریشنز فخرالدین مری کی سربراہی میں عمل میں لائی گئی ۔اس دوران ٹیموں نےتقریباً 22 ایکڑ اراضی پر زیر کاشت و تیار مضر صحت فصلوں کو تلف کیا تاکہ یہ سبزیاں مارکیٹ تک نہ پہنچ سکیں اور شہریوں کی صحت کو لاحق خطرات کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔مہم سے متعلق ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان نے کہا کہ عدالتِ عالیہ کے احکامات اور حکومتی ہدایات کے باوجود سیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نالوں اور سیوریج کے پانی سے اگائی گئی خوردنی فصلیں انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ ان میں مضر جراثیم، بھاری دھاتیں اور دیگر آلودہ اجزاء موجود ہوتے ہیں، جو مختلف مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی مرحلہ وار دیگر علاقوں میں بھی ایسی مضر صحت سبزیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھے گی اور جہاں کہیں بھی نالوں کے پانی سے اگائی گئی خوردنی سبزیاں پائی گئیں، انہیں فوری طور پر تلف کیا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق سیوریج کے پانی کا استعمال صرف غیر خوردنی فصلوں تک محدود ہے، جبکہ اس پانی سے سبزیوں یا دیگر خوردنی اجناس کی کاشت سخت ممنوع ہے۔ خلاف ورزی کے مرتکب کاشتکاروں کے خلاف نہ صرف فصلیں تلف کی جائیں گی بلکہ ان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔حبیب اللہ خان نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ ناقص، ملاوٹی اور مضر صحت خوراک یا سیوریج کے پانی سے کاشت کی جانے والی سبزیوں کی فوری نشاندہی کریں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی ناقص خوراک سے متعلق شکایات کے اندراج کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنا رہی ہے تاکہ شہریوں کی شکایات پر فوری ردعمل دیتے ہوئے عوامی صحت کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert