جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہئے، وہاں قیدیوں کیلئے انتظار گاہ بنائی جائے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہئے، جیل سے باہر انتظار گاہ بنائی جائے،عمران خان کی ان کے بیٹوں سے ویڈیولنک پر بات کرائی جائے۔ انہوں نے جیل اصلاحات کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہئے،اڈیالہ جیل کے باہر قیدیوں کیلئے انتظار گاہ بنائی جائے، بانی پی ٹی آئی کی ان کے بیٹوں سے ویڈیولنک پر بات کرائی جائے۔
بانی پی ٹی آئی کے ساتھ اگر بہنوں کی ملاقات نہیں ہوسکتی تو ان پر واٹرکینن کا استعمال بھی نہ کیا جائے،جیل میں بانی پی ٹی آئی کی صحت خواب ہوئی، عمران خان کے بھی حقوق ہیں ، ان کا ذاتی معالجین سے علاج کرایا جائے، خیبرپختونخواہ کی جیلوں میں قیدیوں کو تمام سہولیات دی جارہی ہیں۔
جمہوریت میں سیاسی جلسے کی شکایت ہوتی ہے لیکن یہاں جلسہ ہوتا ہے تو ایف آئی آر درج ہوجاتی ہے۔
خیبرپختونخواہ میں جیل اصلاحات کررہے ہیں کیونکہ قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ مجھے اڈیالہ جیل میں 24، 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا، جیل میں جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے، جیل میں میری چیخیں کسی نے نہیں سنیں، مجھے جیل جاکر احساس ہوا کہ بے بس قیدی کیسا محسوس کرتا ہے۔یہ بات انہوں ںے جیل ریفارمز کانفرنس سے خطاب میں کہی۔
خطاب سے پہلے مریم نواز نے پنجاب میں جیل اصلاحات سے متعلق ڈاکومنٹری چلوائی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ میں نے جیل میں اصلاحات کی ہیں اور وہ اصلاحات کیں جو خود جیل میں کاٹ کر دیکھا، میں یہاں اس فورم پر کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتی، مجھے اڈیالہ جیل میں 24، 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا، قید تنہائی کا ذہنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے اس کا اندازہ ہے مجھے، جیل میں جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے، پنجاب کی جیلوں میں تمام قیدیوں کے لیے ویڈیو لنک کی سہولت ہے، جیل میں میرے ساتھی کتابیں اور جائے نماز تھیں، جیل میں جو دیکھا اس پر پنجاب کی جیلوں کو ماڈرنائز کیا، جیلوں میں نئی جدید ریفارمز کو متعارف کروایا۔
مریم نواز نے بتایا کہ میں اور میرے والد ایک ساتھ جیل میں تھے، دوران قید میری والدہ بیمار تھیں تاہم ہمیں والدہ سے نہیں ملنے دیا گیا، جیل کاٹنے کی قید کی میری بھی اپنی کہانی ہے، جیل میں ہر قیدی کی اپنی کہانی ہے، جیل میں میری شوگر ڈاؤن ہوئی تو مدد کو کوئی نہیں آیا، میرے ہاتھ کانپ رہے تھے گڑ والی بوتل ہاتھ سے گر کی ٹوٹ گئی، میں نے زمین پر گرا گڑ اٹھا کر کھایا جب زمین سے گڑ اٹھا کر کھایا تو اس میں کانچ کے ٹکڑے تھے، جیل میں میری چیخیں کسی نے نہیں سنیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جیل میں کوئی پرائیویسی نہیں تھی، جیل کے کمرے میں ایک سائیڈ پر واش روم دوسرا حصہ سونے کے لیے تھا، جیل کے کمرے میں پارٹیشن نہیں تھے، مجھے سمجھ نہیں ا?تی کہ جائے نماز کہاں بچھاؤں، اسی لیے قیدیوں کے لیے ریفارمز متعارف کرائیں، ایمرجنسی بٹن متعارف کرایا، مجھے جیل میں احساس ہوا کہ بے بس قیدی کیسا محسوس کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے جس سیل میں رکھا گیا اس کے ساتھ کم عمر بچوں کا سیل تھا، سیل سے روز بچوں کے چیخنے کی آوازیں آتی تھیں۔
