ریاست عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے، پورا بلوچستان خون میں نہلا دیا گیا ہے، خطے میں جو خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس کی حقیقت اب ایک عام بچے پر بھی آشکار ہو چکی ہے مولانا عبدالواسع

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر حضرت مولانا عبدالواسع، اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، جمعیت علما اسلام کے پارلیمانی وفد اور صوبائی مجلس عاملہ کے اراکین نے سانحہ ہنہ وڑک کے شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت، زخمیوں کی عیادت اور دھرنے کے شرکاء سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہنہ وڑک کا دورہ کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر حضرت مولانا عبدالواسع نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی اور قومی المیہ ہے کہ ہماری ملاقاتیں بار بار شہدائ کی لاشوں کے سائے میں ہو رہی ہیں۔ ایسے غمزدہ خاندانوں کے سامنے اظہارِ تعزیت اور یکجہتی کے لیے الفاظ بھی بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔ آج پورا بلوچستان خون میں نہلا دیا گیا ہے، جبکہ اس خطے میں جو خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس کی حقیقت اب ایک عام بچے تک پر بھی آشکار ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے نہ مراعات مانگتے ہیں، نہ ترقیاتی منصوبوں کی بھیک چاہتے ہیں اور نہ نمائشی اعلانات کے طلبگار ہیں۔ ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ ہمیں جینے کا حق دیا جائے، ہمارے جان، مال، عزت اور آبرو کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور بلوچستان کے عوام کو دہشت گردوں اور کرائے کے مسلح جتھوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر حکومتی کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے۔ اگر حکومتی رٹ صرف ریڈ زون کے چند سو میٹر تک محدود رہ گئی ہے اور باقی بلوچستان دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے تو یہ ریاستی نظام کی بدترین ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہنہ وڑک، کلی بری، کلی سارنگزئی، کلی شموزئی اور گردونواح کے عوام کئی ہفتوں سے دہشت گردی، شورش اور مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے تھے، مگر حکومت اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔ کیا کسی نے سوچا کہ شہدائ کے گھروں پر کیا قیامت ٹوٹی ہوگی؟ ان ماؤں پر کیا گزری ہوگی جنہوں نے اپنے جوان بیٹے کھو دیے، ان بچوں پر کیا بیت رہی ہوگی جن کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ گیا، اور ان خاندانوں پر کیا قیامت گزر رہی ہوگی جو آج بھی اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے بے یقینی میں زندگی گزار رہے ہیں؟انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کلی بری، کلی سارنگزئی، کلی شموزئی اور ہنہ وڑک کے عوام پاکستانی نہیں؟ کیا وہ کسی دشمن ملک کے ایجنٹ ہیں کہ انہیں اس بے دردی سے دہشت گردوں اور مسلح جتھوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا؟ آخر ان علاقوں کے عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری کیوں محسوس نہیں کیا جا رہا؟مولانا عبدالواسع نے کہا کہ کئی ہفتوں سے شورش جاری تھی، عوام مسلسل فریاد کرتے رہے، مگر کسی نے ان کی آواز نہ سنی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ دہشت گردوں کی کارروائی مکمل ہونے اور قیمتی جانوں کے ضیاع کے کئی گھنٹے بعد بھی مؤثر کارروائی شروع نہ ہو سکی۔ کیا حکومت کو کارروائی کے لیے مزید لاشوں کا انتظار تھا؟ اگر آج کارروائی ممکن ہے تو وہ ایک ہفتہ پہلے کیوں ممکن نہ تھی؟ ان قیمتی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہے؟انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات جدید اسلحے سے لیس دہشت گردوں کے حملے میں قیمتی جانوں کا ضیاع اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ حکومت اپنی بنیادی آئینی ذمہ داری، یعنی شہریوں کے جان، مال اور عزت کے تحفظ، میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اب عوام کو بیانات، نمائشی اعلانات اور رسمی مذمت نہیں بلکہ عملی نتائج درکار ہیں۔ مزید لاشیں کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔مولانا عبدالواسع نے مطالبہ کیا کہ تمام مغوی افراد کو فوری، محفوظ اور غیر مشروط طور پر بازیاب کیا جائے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی جائے، ہنہ وڑک سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور اس سانحے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف عوام دہشت گردی، قتل و غارت، اغواء اور بدامنی کا شکار ہیں جبکہ دوسری طرف شورش زدہ علاقوں میں عوامی اراضی پر الاٹمنٹ اور مائنز اینڈ منرلز سے متعلق اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی اولین ترجیح عوام کے جان و مال کا تحفظ، امن کا قیام اور متاثرہ خاندانوں کی داد رسی ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات جو پہلے سے موجود بے چینی میں مزید اضافہ کریں۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام گزشتہ کئی روز سے اس مسئلے پر مختلف سیاسی جماعتوں سے مسلسل رابطے میں ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے ایک سیاسی کمیٹی بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔ کمیٹی کا فوری اجلاس طلب کیا جا رہا ہے تاکہ تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد مشترکہ، مؤثر اور فیصلہ کن لائح? عمل اختیار کیا جا سکے۔آخر میں سینیٹر حضرت مولانا عبدالواسع نے دھرنے کے منتظمین کے تمام جائز مطالبات کی مکمل، غیر مشروط اور دوٹوک حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام شہداء کے لواحقین، زخمیوں، مغوی افراد کے اہلِ خانہ اور متاثرہ عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی بلکہ انصاف کے حصول تک ہر سیاسی، پارلیمانی، آئینی اور عوامی محاذ پر ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔انہوں نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوام کے جان و مال کے تحفظ، مغوی افراد کی فوری بازیابی، دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فوری اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ بلوچستان کے عوام مزید خونریزی، مزید بے گناہ لاشیں، مزید بے بسی اور کھوکھلے وعدے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جمعیت علماء اسلام ہر آئینی، جمہوری اور عوامی فورم پر متاثرہ عوام کی آواز بلند کرتی رہے گی اور انصاف، امن اور عوام کے بنیادی حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
