سانحہ ہنہ اوڑک کے خلاف دھرنا تیسرے روز بھی جاری، شہداء کی تدفین سے انکار؛ وکلاء کی مکمل ہڑتال سے عدالتی نظام مفلوج


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)سانحہ ہنہ اوڑک کے خلاف کوئٹہ میں احتجاج میں مزید شدت آگئی ہے۔ شہداء کے لواحقین کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا، جبکہ انہوں نے اپنے مطالبات کی منظوری تک شہداء کی تدفین سے انکار برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
دھرنے کے شرکاء کا کہنا ہے کہ افسوسناک واقعے کے تین روز گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کوئی نمائندہ نہیں آیا، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں میں شدید بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے۔لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ سانحے کے ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
شہداء کے خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، دھرنا، احتجاج اور شہداء کی تدفین سے انکار جاری رہے گا۔
دوسری جانب سانحہ ہنہ اوڑک، صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور لاقانونیت کے خلاف کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر وکلاء نے مکمل ہڑتال کی۔ ہڑتال کے باعث کوئٹہ کی عدالتوں میں معمول کی عدالتی سرگرمیاں شدید متاثر رہیں اور بیشتر مقدمات کی سماعت نہ ہو سکی۔ وکلاء رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی صورتحال اور حالیہ سانحے نے عوام میں شدید عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے، جس کے خلاف قانونی برادری سراپا احتجاج ہے۔وکلاء رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی، بدامنی اور لاقانونیت کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور سانحہ ہنہ اوڑک کے متاثرین کو جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے۔ شہر میں جاری احتجاج اور وکلاء کی ہڑتال کے باعث معمولاتِ زندگی بھی متاثر رہے، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے حکومت پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری عملی اقدامات کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert