بنگلہ دیش میں سیلاب نے تباہی مچادی، 44 افراد جاں بحق، لاکھوں شہری محصور

بنگلہ دیش(قدرت روزنامہ)بنگلہ دیش میں مون سون کی بارش کے آغاز کے ساتھ ہی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی ہے جہاں جنوب مشرقی علاقے میں 44 افراد جاں بحق اور 10 لاکھ سے زائد افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کی وزارت نے بیان میں بتایا کہ چٹوگرام، کوکس بازار، باندربن، رانگاماتی، کھاگراچھڑی، مولوی بازار اورحبیب گنج سمیت 7 اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جہاں معمولات زندگی متاثر ہوئی ہے اور ہزاروں خاندان پھنسے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کئی شہری گھروں میں سیلاب آنے کی وجہ سے کھانا پکانے کی حالت میں نہیں ہیں اور دیگر افراد گھروں اور کچن سے ملبہ ہٹانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

سیلاب سے بری طرح متاثرہ ضلع چٹوگرام کے شہری نورالاسلام نے بتایا کہ تاحال ہمارے گھروں کے اندر پانی ہے اور ہمارے پاس کھانا پکانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، خشک کھانا ختم ہوچکا ہے اور بچوں کے ساتھ اندھیروں میں راتیں گزر رہے ہیں کیونکہ علاقے میں بجلی منقطع ہوچکی ہے۔

بنگلہ دیش کی فوج اور بحریہ کے اہلکار منقطع علاقوں میں موجود متاثرہ شہریوں تک کھانا، پینے کاپانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیائے کشتیوں کے ذریعے پہنچا رہے ہیں اور حکام کی جانب سے بھی ریلیف کے اقدامات میں تیزی لائی جا رہی ہے۔

ڈیزاسٹر منیجمنٹ اینڈ ریلیف کے وزیر اقبال حسین نے چٹوگرام کے متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر بتایا کہ حکومت سیلاب متاثری کی مدد کے لیے جنتا ممکن ہو کوششیں کر رہی ہے، ریلیف، صاف پینے کا پانی اور ادویات تقسیم کی جا رہی ہیں اور جن لوگوں کے گھروں میں پانی آگیا ہے انہیں قریبی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ شدید بارشوں سے کوکس بازار میں قائم روہنگیا مہاجرین کیمپ بھی متاثر ہوئے ہیں جہاں لینڈ سلائیڈنگ سے خواتین اور بچوں سمیت 16 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، ان کیمپوں میں 10 لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین مقیم ہیں اور پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے مون سون کے دوران ہر سال بارشوں سے متاثر ہوتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert