اب کون دے گا زیادہ ٹیکس اور کون کم؟ ایف بی آر رپورٹ میں سب کچھ واضح ہوگیا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان کے ٹیکس نظام میں ایک بڑی اور مثبت تبدیلی دستک دے رہی ہے جس کے تحت امیر سے زیادہ اور غریب سے کم ٹیکس لینے کا منصفانہ اصول حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی حالیہ ریونیو رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران ملک کی مجموعی ٹیکس وصولیوں میں براہ راست ٹیکسز کا حجم ریکارڈ تقریباً 50 فیصد تک پہنچنے کی امید ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران ٹیکسوں کی وصولی کے ڈھانچے میں یہ جو نمایاں اور واضع تبدیلی آئی ہے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
متوازن معیشت اور محصولات میں استحکام
ایف بی آر کی رپورٹ کے تفصیلی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2026-27 کے دوران محصولات کے مجموعی خزانے میں براہ راست ٹیکسز نہ صرف اپنا نصف حصہ برقرار رکھیں گے بلکہ ٹیکس نظام کے اندر ان کی یہ مرکزی اہمیت مزید مضبوط اور مستحکم ہو کر ابھرے گی۔
حکام کے مطابق کہ یہ تبدیلی دراصل ایک زیادہ متوازن، شفاف اور منصفانہ ٹیکس نظام کی جانب بڑھتا ہوا قدم ہے جہاں اب عام استعمال کی اشیاء پر بالواسطہ (Indirect) ٹیکس لگا کر غریب پر بوجھ ڈالنے کے بجائے، براہ راست آمدن پر ٹیکس وصولی کو بنیادی ترجیح اور اہمیت دی جا رہی ہے۔
مالیاتی ماہرین کا نقطہ نظر
مالیاتی پالیسی کے ماہرین کے مطابق، مجموعی ٹیکسوں میں ڈائریکٹ ٹیکس کا تناسب بڑھنا ٹیکس سسٹم کی اصلاح، آمدنی کے مطابق منصفانہ وصولی اور مجموعی معاشی پائیداری کی واضح علامت ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جب محصولات کا دارومدار براہ راست ٹیکس پر ہو، تو ملکی کھپت اور تجارتی اتار چڑھاؤ کے منفی اثرات سے سرکاری خزانہ اور محصولات محفوظ رہتے ہیں۔
مستقبل کی حکمت عملی اور پائیداری
ایف بی آر نے رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اگر ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے کے لیے دستاویزی معیشت (Documentation) سخت نگرانی اور ٹیکس قوانین پر عملدرآمد (Compliance) کے اقدامات کو مزید تیز اور فول پروف بنا دیا جائے تو یہ براہ راست ٹیکسز درمیانی مدت میں حکومت کے لیے آمدنی کا سب سے زیادہ قابل بھروسہ اور مستقل ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ واضع کیا گیا ہے کہ ریونیو میں متوقع اضافہ محض ٹیکسوں کے حجم یا اعداد و شمار کا بڑھنا نہیں ہے بلکہ یہ ٹیکس وصولی کے پورے ڈھانچے میں ایک معیاری تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ براہ راست ٹیکسوں کے اس بڑھتے ہوئے کلیدی کردار سے نہ صرف ملک کی مالیاتی پائیداری کو زبردست تقویت ملے گی بلکہ ایک ایسے مضبوط، متوازن اور انصاف پر مبنی ٹیکس نظام کا قیام ممکن ہو سکے گا جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔
