ایک انسان جب جج بن جائے تو چھ مہینے تک انسان رہتا ہے پھر وہ ’خداوند‘ بن جاتا ہے، اعتزاز احسن کا طنز

روز کئی گھنٹے تک آپ کو سارے پڑھے لکھے لوگ ’مائی لارڈ‘ ’مائی لارڈ‘ کہتے ہیں، کسی میں اتنی جسارت نہیں ہوتی کہ وہ جج سے کہہ سکے کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں؛ ملک کے معروف قانون دان کی گفتگو


لاہور(قدرت روزنامہ)ملک کے نامور قانون دان اور سینئر وکیل چوہدری اعتزاز احسن نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے رویوں اور ان کی نفسیات پر ایک انتہائی دلچسپ، منفرد اور چونکا دینے والا تبصرہ کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جب کوئی شخص ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا جج بنتا ہے تو وہ ابتدائی چند ماہ تو عام انسانوں کی طرح گزارتا ہے، لیکن عدالت کے اندر کا ماحول اور وکلاء کی حد سے زیادہ عاجزی اسے آہستہ آہستہ ایک عام انسان سے ‘خداوند’ (نعوذ باللہ) کے درجے پر پہنچا دیتی ہے۔
اینکر پرسن منصور علی خان کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ ایک انسان جب اعلیٰ عدلیہ یعنی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا جج بنایا جاتا ہے، تو وہ محض چھ مہینے تک ہی ایک عام انسان رہتا ہے، اس کے بعد وہ ایک ‘خداوند’ بن جاتا ہے۔


انہوں نے اس کے پیچھے کی وجہ بتاتے ہوئے عدالتی منظرنامہ کھینچا اور کہا کہ آپ خود دیکھیں کہ ایک جج کے سامنے روزانہ ہفتے کے پانچوں دن، صبح ساڑھے آٹھ بجے سے دوپہر ڈیڑھ بجے تک کیا ہوتا ہے، ملک بھر سے پڑھے لکھے، سوٹ ٹائی پہنے، ڈبل ڈگریاں ہولڈرز وکلاء آتے ہیں اور سارا وقت تقریباً چھ گھنٹے عدالت میں کھڑے ہو کر جج کے سامنے جھکتے ہیں اور مسلسل ‘مائی لارڈ، مائی لارڈ’ کہتے ہیں۔
اس حوالے سے اعتزاز احسن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پورے ماحول میں کسی بھی بڑے سے بڑے یا پڑھے لکھے وکیل میں اتنی ہمت یا جسارت نہیں ہوتی کہ وہ جج کے سامنے کھڑا ہو کر اس سے اختلاف کرسکے یا کھل کر یہ کہہ سکے کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں، جب جج کوئی غلط بات بھی کر رہا ہو، تو وکیل یہ کہنے کی بجائے کہ “آپ غلط ہیں”، انتہائی عاجزی سے ہاتھ باندھ کر کہتا ہے کہ “مائی لارڈ! شاید میں اپنا مؤقف صحیح الفاظ میں آپ کے سامنے ادا نہیں کر سکا”۔

WhatsApp
Get Alert