ماہ جولائی 2026 کوئٹہ کراچی خونی شاہراہ پر 205 ٹریفک حادثات، 14 افراد جاں بحق، 193 زخمی


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں واقع قومی شاہراہوں، خصوصا کوئٹہ۔کراچی خونی شاہراہ (N-25) اور کوسٹل ہائی وے (N-10) پر ماہ جولائی 2026 کے دوران پیش آنے والے ٹریفک حادثات کے تشویشناک اعداد و شمار سامنے آگئے ہیں، جن کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران مجموعی طور پر 205 ٹریفک حادثات رونما ہوئے جن میں 14 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 193 افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو 1122 کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شاہراہوں پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے رپورٹ کے مطابق ضلع لسبیلہ کی مختلف قومی شاہراہوں پر قائم ریسکیو 1122 مراکز نے حادثات کے دوران فوری امدادی کارروائیاں انجام دیں، زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور انہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔ اس کے علاوہ متعدد افراد کو ریسکیو مراکز کی او پی ڈیز میں بھی علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئیں تفصیلات کے مطابق آر سی ڈی شاہراہ (N-25) پر واقع ریسکیو 1122 ٹیارہ سینٹر کی حدود میں جولائی کے دوران 52 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے۔ ان حادثات میں 62 افراد زخمی ہوئے جبکہ 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اسی عرصے میں 16 افراد کو ریسکیو سینٹر ٹیارہ کی او پی ڈی میں طبی امداد فراہم کی گئی اسی طرح کوسٹل ہائی وے (N-10) پر واقع ریسکیو 1122 لیاری سینٹر کی حدود میں 74 ٹریفک حادثات پیش آئے جن میں 90 افراد زخمی ہوئے جبکہ 1 شخص جاں بحق ہوا۔ ریسکیو حکام کے مطابق 19 افراد کو لیاری سینٹر کی او پی ڈی میں علاج اور ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی یو این اے کو موصول رپورٹ کے مطابق لیاری فور سینٹر (N-10) کی حدود میں بھی 30 ٹریفک حادثات رونما ہوئے، جن کے نتیجے میں 37 افراد زخمی جبکہ 1 شخص جاں بحق ہوا۔ اس مرکز میں 6 افراد کو او پی ڈی کے ذریعے طبی سہولیات فراہم کی گئیں دوسری جانب رسملان ریسکیو 1122 سینٹر کی حدود میں 44 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 16 افراد زخمی ہوئے۔ اگرچہ اس سیکٹر میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم 16 افراد کو ریسکیو سینٹر کی او پی ڈی میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئیںطریسکیو 1122 حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر حادثات تیز رفتاری، غیر محتاط ڈرائیونگ، اوور ٹیکنگ، ڈرائیوروں کی غفلت، تھکن، خراب موسمی حالات اور بعض مقامات پر سڑکوں کی خستہ حالی کے باعث پیش آئے۔ حکام کے مطابق بروقت ریسکیو کارروائیوں کے باعث متعدد زخمیوں کی جانیں بچائی گئیں، تاہم حادثات کی مجموعی شرح انتہائی تشویشناک ہیطٹریفک ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئٹہ۔کراچی شاہراہ (N-25) کو عرصہ دراز سے ملک کی خطرناک ترین شاہراہوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں روزانہ ہزاروں چھوٹی اور بڑی گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ اسی طرح کوسٹل ہائی وے (N-10) پر بھی سیاحتی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث ٹریفک کا دبا مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے باعث حادثات کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیںطریسکیو 1122 اور متعلقہ اداروں نے شہریوں، ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز سے اپیل کی ہے کہ دوران سفر ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں، تیز رفتاری سے گریز کریں، اوور ٹیکنگ میں احتیاط برتیں، گاڑیوں کی فٹنس یقینی بنائیں، سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کے استعمال کو معمول بنائیں اور طویل سفر سے قبل مناسب آرام کریں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے حکام نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قومی شاہراہوں پر ریسکیو اور ایمرجنسی سروسز کو مزید مثر بنایا جائے گا، جبکہ عوام میں روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی مہم کو بھی مزید وسعت دی جائے گی تاکہ مستقبل میں ٹریفک حادثات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔

WhatsApp
Get Alert