استعفے یا میرے قتل سے امن آتا ہے تو گولی کھانے کو تیار ہوں، لاشوں پر سیاست نہ کی جائے‘ سانحہ زیارت لواحقین کے جو بھی جائز مطالبات ہیں، ہم انہیں پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو جواب
جو کام اسمبلی کا ہے، وہ اسمبلی کرے گی، اور جو کام صوبائی حکومت کا ہے، وہ صوبائی حکومت انجام دے گی۔

کوئٹہ(ڈیلی قدرت)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے استعفے کے مطالبے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرسی آنے جانے والی چیز ہے، اصل بات یہ ہے کہ بلوچستان کے لوگوں کی خدمت کی جائے۔
نواب زادہ میر سراج خان رئیسانی کی آٹھویں برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آج میرے استعفے سے بلوچستان کے حالات بہتر ہوتے ہیں، اور اگر بشیر زیب اور ڈاکٹر اللہ نذر یہ اعلان کر دیں کہ سرفراز بگٹی کے استعفے یا سرفراز بگٹی کے قتل سے بلوچستان میں امن آ جائے گا، تو میں پہلا آدمی ہوں گا جو کسی اور سے نہیں بلکہ اپنے بھائی سے کہوں گا کہ مجھے گولی مار دے، تاکہ بلوچستان کے لوگوں کی زندگیوں میں امن آ جائے۔ اس موقع پر صوبائی وزراء میر عاصم کرد گیلو، بخت محمد کاکڑ، میر ضیاء اللہ لانگو، میر سلیم کھوسہ و دیگر نے بھی شرکت کی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے محمود خان اچکزئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “میں انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب بیس معصوم پشتون کٹ کوچہ میں شہید ہوئے تھے، تو کیا آپ کے بھائی نے استعفیٰ دیا تھا؟ کیا آپ کے بھائی نے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا؟ کیا آپ کے بھائی نے وزارت کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا؟ اور جو وزراء کرام آج دھرنے میں موجود ہیں، کیا انہوں نے استعفیٰ دیا تھا؟” انہوں نے مزید یاد دہانی کرائی کہ جب 8 اگست کے سانحے میں ہمارے وکلاء کو بے دردی سے شہید کیا گیا تھا، تو کیا اس وقت آپ کے استعفے آئے تھے؟
سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس کے بعد جتنے بھی واقعات ہوئے، خصوصاً پولیس لائن میں جہاں تیس سے زائد ہمارے نوجوان ریکروٹس بے دردی سے شہید کیے گئے، اس رات یہ میڈیا کے دوست گواہ ہیں کہ سب سے پہلے وہاں پہنچنے والا شخص سرفراز بگٹی تھا۔ لہٰذا یہ استعفوں کا معاملہ نہیں ہے۔
انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا حق دیتے ہوئے کہا کہ سیاست ضرور کریں، میری کوتاہی پر کریں، اگر آپ کو میری بدانتظامی (بیڈ گورننس) نظر آتی ہے تو اس پر تنقید کریں، اگر آپ کو میری کرپشن نظر آتی ہے تو اس پر بات کریں، میری اصلاح کریں۔ اپوزیشن کا مطلب اپوزیشن ہے، لیکن خدا کے واسطے لاشوں کی سیاست چھوڑ دیں، شہداء کی لاشوں پر سیاست نہ کریں۔
اپنے خطاب کے آخر میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہداء کے لواحقین اور سیاسی جماعتوں سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے جو بھی جائز مطالبات ہیں، ہم انہیں پورا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جو کام اسمبلی کا ہے، وہ اسمبلی کرے گی، اور جو کام صوبائی حکومت کا ہے، وہ صوبائی حکومت انجام دے گی۔
