حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والے حکمران خود اقتدار اور طاقت کے مراکز کے غلام ہیں، جے یو آئی

وقتی مفادات کے اسیر اور کٹھ پتلی عناصر مولانا فضل الرحمان کا سیاسی قد گھٹانے میں ناکام؛ اقتدار کے پجاریوں کی اخلاقی و سیاسی موت عوامی مسائل سے غافل اور مراعات یافتہ حکمرانوں کو جمعیت علماء اسلام سے وفاداری کی سند مانگنے کا کوئی حق نہیں: ترجمان دلاور خان کاکڑ


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی ترجمان دلاور خان کاکڑ نے صوبائی پریس ریلیز میں کہا کہ حب الوطنی سرٹیفکیٹس، نعروں، سوشل میڈیا مہمات یا مخالفین پر بے بنیاد الزامات سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں اختیار کیے گئے کردار، آئین سے وفاداری، قومی وحدت کے لیے دی گئی قربانیوں اور ریاستی استحکام کے لیے کی جانے والی مسلسل جدوجہد سے ثابت ہوتی ہے۔ جو لوگ اپنی پوری سیاسی زندگی میں وطن، آئین، پارلیمان اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے رہے ہوں، انہیں وقتی سیاسی مہمات، تراشے ہوئے بیانات یا کردار کشی کے ذریعے مشکوک بنانے کی کوشش درحقیقت قومی شعور، سیاسی اخلاقیات اور تاریخی حقائق کی نفی ہے۔حضرت مولانا فضل الرحمٰن اور جمعیت علماء اسلام کی نصف صدی پر محیط سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انہوں نے ہر نازک مرحلے پر آئین، جمہوریت، وفاقِ پاکستان اور قومی سلامتی کو اپنی سیاست کا بنیادی محور بنایا۔ جمعیت علماء اسلام نظریاتی سرحدوں کی محافظ جماعت ہے، اسی لیے اس کی سیاست ہمیشہ قومی خودمختاری، آئینی بالادستی، جمہوری تسلسل اور وفاقِ پاکستان کے استحکام کے گرد مرکوز رہی ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر تاریخ، کردار اور خدمات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حب الوطنی کے باب میں جمعیت علماء اسلام کسی فرد، ادارے یا سیاسی مخالف سے سند لینے کی محتاج نہیں، کیونکہ اس کی سب سے بڑی سند اس کی عملی جدوجہد، قومی خدمات اور تاریخ کے ہر کڑے امتحان میں سرخرو کردار ہے۔بلوچستان کے شورش زدہ ماحول سے لے کر خیبر کے کشیدہ حالات تک، جب جذباتی نعروں، بیرونی اثرات اور اشتعال انگیز بیانیوں کے ذریعے فضا کو مزید پراگندہ کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں، اس وقت جمعیت علماء اسلام نے اپنے کارکنوں کو تصادم کے بجائے آئینی، جمہوری اور سیاسی راستے پر قائم رکھا۔ جماعت کی پالیسی کو ہمیشہ قومی مفاد اور ریاستی استحکام سے ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کی گئی، کیونکہ جمعیت علماء اسلام نظریاتی سرحدوں کی محافظ جماعت ہے اور اس کا بنیادی مؤقف ہمیشہ ریاست، آئین اور قومی وحدت کے تحفظ پر مبنی رہا ہے۔ مگر آج اسی جماعت کے قائد، حضرت مولانا فضل الرحمٰن، کو کمزور کرنے کے لیے ایسے کردار سامنے لائے جا رہے ہیں جن کا سیاسی قد، تجربہ اور قومی خدمات سے کوئی تقابل نہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف سیاسی اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ قومی ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جب بھی ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا، جمعیت علماء اسلام نے سیاسی اختلافات کو کبھی قومی دفاع پر مقدم نہیں رکھا۔ “بنیان مرصوص” جیسے نازک مواقع پر جماعت نے ہر ممکن افرادی معاونت، حتیٰ کہ سرحدی علاقوں میں بھی، ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے لیے پیش کی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حب الوطنی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ جمعیت علماء اسلام کے منشور، فکر اور جماعتی نظریے کی بنیادی اساس ہے۔ ریاست کی سلامتی، قومی وحدت، جغرافیائی سرحدوں کے دفاع اور نظریاتی بنیادوں کے تحفظ کے معاملے میں جمعیت علماء اسلام نظریاتی سرحدوں کی محافظ جماعت کے طور پر ہمیشہ واضح، دوٹوک اور غیر مبہم مؤقف رکھتی آئی ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے برسوں پہلے ایک نہایت متوازن مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوج آنکھوں پر پلکوں کی مانند ہے، اور پلکیں آنکھوں پر بوجھ نہیں ہوتیں، لیکن اگر پلک کا ایک بال آنکھ کے اندر چلا جائے تو آنکھ تکلیف محسوس کرتی ہے کیونکہ ہر چیز کی اپنی حدود اور اپنی جگہ ہوتی ہے۔ اس بات کا مقصد ریاستی اداروں کے آئینی دائر? کار کی وضاحت تھا، نہ کہ کسی ادارے کی تضحیک۔ افسوس یہ ہے کہ ایک مکمل سوچ اور طویل سیاسی مؤقف کو نظر انداز کر کے صرف ایک جملہ سیاق و سباق سے الگ کیا گیا، پھر اسے منفی رنگ دے کر میڈیا ٹرائل شروع کر دیا گیا۔ اختلافِ رائے کو دشمنی یا وطن سے عدم وفاداری سے تعبیر کرنا نہ جمہوری رویہ ہے اور نہ ہی قومی دانش مندی۔ہم ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے قریب سے دیکھا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے مذہبی طبقے کو کس طرح ریاست، آئین اور جمہوریت کے ساتھ جوڑے رکھا۔ ایک ایسا دور تھا جب پورا خطہ جنگی سیاست، مسلح تحریکوں اور فرقہ واریت کی لپیٹ میں تھا۔ افغانستان میں روس کے خلاف جنگ، کشمیر کا محاذ اور ملک کے اندر فرقہ وارانہ کشیدگی نے مدارس کے ہزاروں نوجوانوں کو تعلیمی ماحول سے نکال کر عسکری محاذوں کی طرف دھکیل دیا تھا۔ ایسے حالات میں جب بندوق کو طاقت اور تشدد کو کامیابی سمجھا جا رہا تھا، مولانا فضل الرحمٰن نے جمہوریت، پارلیمان اور آئین کی بات کی۔ انہوں نے آمریت کے خلاف ایم آر ڈی تحریک میں حصہ لیا، سیاسی جدوجہد کو ترجیح دی اور اپنے کارکنوں کو تصادم کے بجائے آئینی راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔بعد ازاں جب ریاست نے مختلف مسلح منصوبے ختم کیے تو انہی حلقوں میں سے کئی عناصر ریاست کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ فتوے دیے گئے، ہتھیار اٹھائے گئے اور خونریزی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ ایسے نازک مرحلے میں مولانا فضل الرحمٰن نہ صرف ریاست کے ساتھ کھڑے رہے بلکہ انہوں نے شدت پسندی اور بغاوت کے بیانیے کے سامنے ایک مضبوط سیاسی و دینی دیوار کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے خودکش حملے برداشت کیے، اپنے رفقاء کی شہادتیں دیکھیں، مگر ریاست سے تصادم کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ یہی اس قیادت کا امتیاز ہے جو نظریات، آئین اور قومی وحدت کو مقدم رکھتی ہے۔یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ مذہبی طبقے کی ایک پوری نسل کو آئین، پارلیمان اور جمہوری سیاست سے وابستہ رکھنے میں مولانا فضل الرحمٰن کا بنیادی کردار رہا ہے۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی سیاسی حکمتِ عملی پر تنقید بھی ہو سکتی ہے، لیکن ان کی حب الوطنی، قومی کردار اور تاریخی خدمات سے انکار کرنا تاریخ سے ناواقفیت، سیاسی انتہا پسندی اور اخلاقی دیوالیہ پن کے سوا کچھ نہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج معمولی حیثیت کے لوگ اپنی وقتی شہرت کے لیے ایسی شخصیات پر کیچڑ اچھال رہے ہیں جنہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ قومی سیاست میں گزارا اور ہر مشکل وقت میں ریاست اور جمہوریت کا ساتھ دیا۔پارلیمانی سیاست میں بھی مولانا فضل الرحمٰن کا مقام منفرد ہے۔ آج ایوانوں میں شور تو بہت سنائی دیتا ہے مگر دلیل، وقار اور فکری گہرائی کم دکھائی دیتی ہے۔ مولانا جب گفتگو کرتے ہیں تو ان کے لہجے میں اعتدال، استدلال اور تجربے کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ وہ محض مسائل کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ ان کے حل کی سمت بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اسی لیے انہیں صرف ایک جماعت کا قائد نہیں بلکہ پارلیمانی سیاست کے وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن کو وقتی سیاسی تنازعات کے پیمانے پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ ان کے پیچھے نصف صدی پر محیط دینی، سیاسی، آئینی اور پارلیمانی جدوجہد کی تاریخ کھڑی ہے۔ وہ ایک بزرگ قومی رہنما ہیں اور بزرگ شخصیات صرف اپنی جماعت کی نہیں بلکہ پوری قوم کا سرمایہ ہوتی ہیں۔ ان کی بے توقیری، کردار کشی اور تضحیک سے وقتی سیاسی فائدہ تو شاید حاصل ہو جائے، مگر اس کا نقصان قومی سیاسی تہذیب کو پہنچتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشرے میں ہمیشہ جذباتی رجحانات موجود رہتے ہیں۔ مختلف گروہوں کے اپنے بیانیے، اپنے ذرائع اور اپنی سوچ ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن جیسے رہنما انہی جذبات اور ریاست کے درمیان مکالمے کا پل ہیں۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان سے بات کی جا سکتی ہے اور دلیل کے ساتھ مباحثہ بھی ممکن ہے، لیکن اگر ایسے پل گرا دیے جائیں تو پھر شدت پسند آوازوں کے ساتھ مکالمے کی گنجائش بھی ختم ہو جاتی ہے۔لہٰذا قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ سیاسی اختلاف کو تہذیب، دلیل اور آئینی حدود کے اندر رکھا جائے۔ کسی بزرگ، تجربہ کار اور قومی سطح کے رہنما کو چند تراشے ہوئے جملوں کی بنیاد پر وطن دشمن یا مشکوک قرار دینا نہ ریاست کے مفاد میں ہے، نہ جمہوریت کے حق میں اور نہ ہی قومی یکجہتی کے لیے سودمن…

WhatsApp
Get Alert