چند ہزار روپے بدلیں گے آپ کی قسمت؟ جانیں ایرانی کرنسی کا وہ سچ جو کوئی نہیں بتا رہا

کراچی (قدررت روزنامہ)امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پاکستان میں ایرانی ریال کی خرید و فروختک کا سلسلہ جاری ہے۔ مارکیٹ سے وابستہ افراد کے مطابق حالیہ دنوں میں ایرانی کرنسی کی قدر میں بہتری کے آثار دیکھے گئے ہیں جبکہ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی شرحِ تبادلہ کی معلومات بھی اس رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ایم ایم نیوز کی رپورٹس کے مطابق خطے کی صورتحال اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے خاص طور پر امریکہ کے حالیہ اقدامات اور آبنائے ہرمز کے اطراف ایران کے جوابی ردعمل کے بعد حالات میں تناؤ برقرار ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں کچھ خریدار اس امید پر ایرانی ریال حاصل کر رہے ہیں کہ مستقبل میں اس کرنسی کی قیمت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران کے مرکزی بینک نے نئی سرکاری شرحیں جاری کی ہیں جن کے مطابق امریکی ڈالر اور یورو کے مقابلے میں ریال کی قدر نسبتاً بہتر دکھائی دے رہی ہے۔ ایک امریکی ڈالر کی سرکاری قیمت 13 لاکھ 59 ہزار 712 ایرانی ریال ریکارڈ کی گئی جبکہ ایک روز قبل یہ شرح 13 لاکھ 58 ہزار 323 ریال تھی۔یورو کی قیمت معمولی کمی کے بعد تقریباً 15 لاکھ 50 ہزار 497 ریال بتائی گئی۔

پاکستانی روپے اور ایرانی ریال کے درمیان تبادلے کی رپورٹ کے مطابق 100 پاکستانی روپے تقریباً 4 لاکھ 89 ہزار 83 ایرانی ریال کے برابر قرار دیے گئے ہیں۔

اسی طرح پاکستان میں 10 لاکھ نہیں بلکہ ایک کروڑ ایرانی ریال کا پیکٹ تقریباً 6 ہزار سے 7 ہزار پاکستانی روپے میں فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں جو مقامی مارکیٹ میں اس کرنسی کی موجودہ طلب کو ظاہر کرتی ہیں۔

ایرانی صرافہ نظام سَنا (SANA) سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 14 لاکھ 96 ہزار 270 ایرانی ریال جبکہ ایک یورو کی قیمت تقریباً 17 لاکھ 6 ہزار 216 ریال رہی۔

اوپن مارکیٹ میں قیمتیں سرکاری ریٹ سے زیادہ

ایرانی اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 18 لاکھ 10 ہزار سے 18 لاکھ 40 ہزار ریال کے درمیان رہی، جبکہ یورو تقریباً 20 لاکھ 60 ہزار سے 20 لاکھ 90 ہزار ایرانی ریال میں فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ماہرین کے مطابق سرکاری اور کھلی مارکیٹ کی قیمتوں میں نمایاں فرق کی بڑی وجوہات میں ایران پر عائد پابندیاں، خطے میں جاری سیاسی کشیدگی اور عالمی تجارت کے راستوں کو درپیش مشکلات شامل ہیں۔

درمیانی شرح اور ماہرین کی توقعات

موجودہ درمیانی شرحِ تبادلہ کے حساب سے ایک ایرانی ریال کی قدر تقریباً 0.000202 پاکستانی روپے بنتی ہے، جبکہ ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 4,950 سے 4,956 ایرانی ریال کے برابر ہے۔

رپورٹ میں شامل معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایرانی ریال کی طلب کی ایک وجہ یہ امید ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری آتی ہے تو پابندیاں کم ہو سکتی ہیں اور ایران کی تیل برآمدات دوبارہ بڑھ سکتی ہیں، جس سے ریال کی قدر میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ موجودہ اوپن مارکیٹ قیمت سے زیادہ نرخ پر ایرانی ریال خریدنا سرمایہ کاروں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ علاقائی حالات اور کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا امکان مسلسل موجود ہے۔

لین دین سے پہلے تازہ نرخ معلوم کرنے کی ہدایت

کرنسی ڈیلرز نے خبردار کیا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں شرحِ تبادلہ روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق طلب اور رسد، عالمی معاشی حالات، سرحدی تجارت، بین الاقوامی پابندیاں اور مجموعی مارکیٹ رجحانات کرنسی کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاجروں اور خریداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کسی بھی لین دین سے پہلے تازہ ترین ریٹ ضرور معلوم کر لیں۔

WhatsApp
Get Alert