شوہر نے قرض کی رقم کے بدلے بیوی کو دوست کے ہاتھوں فروخت کر دیا

فیصل آباد(قدرت روزنامہ) شوہر نے مبینہ طور پر قرض کی رقم کے بدلے اپنی بیوی کو دوست کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔

فیصل آباد کے علاقے کوکیاں والا میں انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شوہر نے مبینہ طور پر قرض کی رقم کے بدلے اپنی بیوی کو دوست کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔

خریدار نے خاتون سے زبردستی نکاح پر نکاح کر لیا اور اسے ایک سال تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ پولیس تفتش اور بچوں کی بازیابی میں اب تک ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

مدن پورہ میں اپنی بیوہ والدہ کے پاس مقیم 33 سالہ متاثرہ خاتون نادیہ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس کی شادی 12 سال قبل ماناں والا کے رہائشی عثمان سے ہوئی تھی، جس سے ان کے تین بچے ہیں۔ بعد میں وہ کوکیاں والا کے انصاری پارک میں کرائے کے مکان میں منتقل ہو گئے۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ عثمان نے اپنے دوست اور پراپرٹی ڈیلر شہزاد سے 70 ہزار روپے قرض لیا تھا اور اسے اکثر گھر لانے لگا۔ نادیہ کے منع کرنے پر عثمان اسے تشدد کا نشانہ بناتا تھا اور بالاخر قرض کے تقاضے پر عثمان نے اپنی بیوی کو شہزاد کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔

نادیہ کے مطابق سودا ہونے کے بعد عثمان اپنے 8 سالہ بیٹے ابوذر اور 10 سالہ بیٹی مدیحہ کو لے کر فرار ہو گیا، جبکہ ملزم شہزاد اور اس کے ساتھیوں نے اسلحے کے زور پر نادیہ اور اس کے 4 سالہ بیٹے شہریار کو یرغمال بنا لیا اور اپنے گھر منتقل کر دیا۔ ملزمان نے نادیہ کو اس کے مائیکے والوں سے ملنے سے بھی روک دیا۔

بعد ازاں دونوں ملزمان نے ملی بھگت سے 7 اگست 2025 کو ایک جعلی طلاق نامہ بنوایا، نادیہ کے شناختی کارڈ پر اسٹامپ پیپر نکلوا کر زبردستی دستخط اور انگوٹھے لگوائے اور اس جعلی طلاق کے محض نو روز بعد کچہری لے جا کر بچے کے قتل کی دھمکی دے کر زبردستی نکاح پر نکاح کر لیا۔

متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم شہزاد ایک سال تک بچے کی جان لینے کی دھمکیاں دے کر اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ نادیہ کے بھائیوں نے انتھک تلاش کے بعد 17 جون کو اسے بازیاب کروا کر گھر منتقل کیا، لیکن ملزم شہزاد اب بھی فون پر اہلخانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اس کا 4 سالہ بیٹا تاحال ملزم کے پاس یرغمال ہے۔

نادیہ نے بتایا کہ اس نے سی پی او فیصل آباد کو دادرسی کے لیے درخواست دی ہے لیکن پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے اور بچوں کو بازیاب کرانے میں ناکام رہی ہے۔

متاثرہ خاتون نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ ان کے تینوں بچوں کو بازیاب کروایا جائے اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔

WhatsApp
Get Alert