مولانا متقی و پرہیز گار جبکہ عائشہ گلالئی غلیظ انسان ہے! جے یو آئی کی شاہدہ اختر کا جوابی وار


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)سابق رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی وزیر کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر لگائے گئے سنگین الزامات کے بعد جے یو آئی کی قیادت بھی میدان میں آ گئی ہے۔
جے یو آئی کی مرکزی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے عائشہ گلالئی کے بیان پر انتہائی سخت اور تیکھا ردعمل دیتے ہوئے ان کی ذہنی حالت اور شخصیت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔


شاہدہ اختر علی نے عائشہ گلالئی کے بیان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کی ذاتی حیثیت پر براہِ راست وار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عائشہ گلالئی پہلے معاشرے میں اپنی حیثیت واضح کریں کہ وہ اصل میں مرد ہیں یا عورت کیونکہ وہ کبھی مرد بن جاتی ہیں اور کبھی عورت کا روپ دھار لیتی ہیں۔
رہنما جے یو آئی کا کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی کی یہ گندی اور غلیظ ذہنیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کے اپنے دماغ کے اندر کس قسم کا لاوا پک رہا ہے جسے وہ دوسروں پر اچھال رہی ہیں۔
شاہدہ اختر علی نے امیر جے یو آئی کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ گلالئی کے الزامات من گھڑت اور حقیقت سے دور ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے اور پوری دنیا نے مولانا فضل الرحمان کو ہمیشہ یا تو اللہ کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے یا پھر ملک و قوم کے لیے صاف ستھری سیاست کرتے ہوئے پایا ہے۔ ان کی پوری زندگی زہد، تقویٰ اور سیاسی بصیرت سے عبارت ہے جس پر ایسے اخلاق باختہ الزامات اثر انداز نہیں ہو سکتے۔
عائشہ گلالئی کے سنگین الزامات کا پس منظر
واضح رہے کہ یہ شدید ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب سابق رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی وزیر نے ایک ویڈیو بیان میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر متعدد سنگین اور اخلاقی الزامات عائد کیے تھے۔


عائشہ گلالئی نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرپرستی کر رہے ہیں اور انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مولانا کو فوری طور پر گرفتار کرکے قیدی نمبر 805 بنایا جائے۔ جے یو آئی کی رہنما شاہدہ اختر علی نے عائشہ گلالئی کے اسی بیان کو گندی ذہنیت کا عکاس قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا ہے۔

WhatsApp
Get Alert