مولانا فضل الرحمان کے خطاب سے تلخیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، فواد چوہدری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ سخت خطاب اور ملک کے موجودہ سیاسی و آئینی بحران پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے، انہوں نے مقتدر حلقوں اور سیاسی جماعتوں کو موجودہ صورت حال کی سنگینی سے خبردار کرتے ہوئے تحمل اور ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرنے کا مشورہ دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں فواد چوہدری نے جمیعت لائر فورم کے کنونشن میں مولانا فضل الرحمان کے مقتدر حلقوں کے خلاف کیے گئے سخت خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس بیان اور مؤقف سے ملک کے سیاسی ماحول کی تلخیوں میں اور زیادہ اضافہ ہو رہا ہے، اس نازک وقت میں مزید تلخی پیدا کرنے کے بجائے شدید تحمل اور بردباری کی ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمن کے خطاب سے تلخیوں میں اور اضافہ ہو رہا ہے، اس وقت تحمل کی ضرورت ہے فیصلہ ساز ٹھنڈے دماغ سے سوچیں ملک میں اس قدر سیاسی پارہ ہائ کر دیا گیا ہے کہ ہر عقل کی بات کرنیوالے کو بھسم کرنا حکمت عملی مان لی گئ ہے، وفاقی جماعتیں اس جنگ کو صرف اسٹیبلشمنٹ پر چھوڑ کر سائیڈ پر… https://t.co/ZNKaTrt5WU
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) July 19, 2026
ملک کے مقتدر حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت فیصلہ سازوں کو بالکل ٹھنڈے دماغ سے سوچنا چاہیے، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت سیاسی پارہ اس قدر ہائی کر دیا گیا ہے کہ ہر عقل اور دانشمندی کی بات کرنے والے کو ‘بھسم’ کرنا ہی مروجہ حکمتِ عملی مان لی گئی ہے، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔
حکومتی اور دیگر وفاقی سیاسی جماعتوں کے رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ اس وقت ملک کی تمام وفاقی جماعتیں اس سیاسی و آئینی جنگ کو صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ پر چھوڑ کر خود بالکل سائیڈ پر ہو چکی ہیں، ملک پہلے ہی شدید بحران کی زد میں ہے، اس تلخ اور کشیدہ ماحول میں اب مزید کسی بھی قسم کا اضافہ بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔
