لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی،کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر

امید ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا اہم قومی ذمہ داری کو احسن انداز میں انجام دیں گے،وزیراعظم


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کر دیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ستارۂ بسالت، چیف آف جنرل اسٹاف کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے اور انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا کو ترقی اور نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور نئی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔


لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کے کیرئیر پرایک نظر
جنرل عامر رضا نے 1988 میں کمیشن پاس کیا، جبکہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ کیا۔ اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے بین الاقوامی تعلقات کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں۔
جنرل عامر رضا کو جنوری 2025 میں چیف آف جنرل اسٹاف جی ایچ کیو تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ کمانڈر فور کور اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے عہدے کی اہمیت
یاد رہے کہ گزشتہ برس 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوج کے چین آف کمانڈ میں اہم تبدیلیاں کی گئیں تھیں۔ اسی ترمیم کے تحت کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی پوسٹ تخلیق کی گئی تھی تاکہ نیوکلیئر منیجر کا وہ کردار سنبھالا جا سکے جو اس سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے پاس تھا۔ یہ عہدہ 27 نومبر 2025 سے ختم کر دیا گیا تھا۔
یوں یہ منصب ملک کی اسٹریٹجک صلاحیتوں اور قومی دفاعی حکمتِ عملی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔
ترمیم کے تحت کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تقرری اور مدتِ ملازمت میں توسیع چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کی سفارش پر عمل میں لائی جاتی ہے۔
سی ڈی ایف بھی ایک نیا عہدہ ہے جو 27ویں ترمیم کے تحت ہی مسلح افواج میں ایک متحد کمانڈ اسٹرکچر کی خاطر قائم کیا گیا تھا۔ ترمیم کی منظوری کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دینے والے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا تھا۔
پاکستان آرمی ایکٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تقرری یا مدت ملازمت میں توسیع، یا “اس سلسلے میں مقرر کنندہ اتھارٹی کی جانب سے اختیارات کے استعمال کو کسی بھی عدالت کے سامنے کسی بھی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جائے گا”۔

WhatsApp
Get Alert