لندن ہوٹل میں سعودی شہزادے کی موت برطانوی عدالتی تحقیقات میں اہم حقائق منظر عام پر


لندن(قدرت روزنامہ)برطانیہ میں ہونے والی عدالتی تحقیقات (انکوئسٹ) میں یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ 29 سالہ سعودی شہزادہ عبداللہ بن فہد بن عبداللہ بن عبدالعزیز بن جلوی آل سعود کی موت الکحل، جی ایچ بی (GHB) اور بے چینی کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا زینیکس (Xanax) کے مہلک امتزاج کے باعث ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق شہزادہ عبداللہ گزشتہ سال 25 نومبر کو لندن کے علاقے کنسنگٹن میں واقع میریٹ ہوٹل کے اپنے کمرے کے باتھ روم میں مردہ پائے گئے تھے، جہاں صفائی کرنے والا عملہ بعد میں کمرے میں داخل ہونے کے بعد انہیں فرش پر پڑا ہوا پایا۔
تحقیقات کرنے والے کورونر نے کہا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر خودکشی یا کسی مجرمانہ کارروائی (Foul Play) کے کوئی آثار نہیں ملے۔ بعد ازاں 2 دسمبر کو سعودی شاہی دربار نے شہزادہ عبداللہ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی نماز جنازہ ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی جائے گی۔ڈسکلیمر: یہ مواد صرف معلوماتی مقاصد کے لیے نیوز کے طور پر شیئر کیا گیا ہے۔ یہ کسی بھی سیاسی نقطہ نظر کو فروغ یا تائید نہیں کرتا۔

WhatsApp
Get Alert