فارم 47کے نمائندوں کااحتساب عوام خود کرینگے، مجید خان اچکزئی
عوام کی خدمت پارٹی کی اولین ترجیح ہے، موجودہ حالات میں عوام مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور بنیادی سہولیات کی کمی سمیت متعدد مسائل سے دوچار ہیں، شمولیت کی تقریب سے خطاب پارٹی صفوں میں عوام کی شمولیت کا خیرمقدم، قومی،سیاسی،جمہوری حقوق کے حصول کی جاری تحریک مزید مضبوط ہوگی، نعیم اچکزئی، حاجی قاسم، ماسٹر شبیر نے بھی خطاب کیا

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی نائب صدر مجید خان اچکزئی نے عوام کی بڑی تعداد کی پارٹی صفوں میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پارٹی کی جدوجہد کو مزید تقویت ملے گی اور قومی،سیاسی،جمہوری حقوق کے حصول کی جاری تحریک مزید مضبوط ہوگی۔ پارٹی کارکنوں پر زور دیا گیا کہ وہ عوام سے قریبی رابطہ قائم رکھتے ہوئے مزید لوگوں کو پارٹی میں شامل کریں تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہد کو وسعت دی جا سکے۔ عوام کی خدمت پارٹی کی اولین ترجیح ہے۔ موجودہ حالات میں عوام مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور بنیادی سہولیات کی کمی سمیت متعدد مسائل سے دوچار ہیں، جبکہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔فارم 47کے نمائندوں کو عوام کے سرومال سے کوئی سروکار نہیں ان کا احتساب عوام خود کرینگے۔شمولیت کی تقریب سے ضلع معاون سیکرٹری نعیم اچکزئی، علاقائی سیکرٹری حاجی قاسم اور ماسٹر شبیر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پرمعروف ٹاؤن ابتدائی یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے سیکرٹری ماسٹر شبیر خان،سینئر معاون سیکرٹری ظہور خان،بلال خان، شعور احمد،ضمیر احمد، منیر احمد،سردارمعاونین منتخب ہوئے۔ اس موقع پر ماسٹر شبیرخان، محمد قاسم، ظہور احمد، نصیر احمد، شمس الدین، مشال خان، منیراحمد،شعور احمد،شاہد خان، سردار محمد، سعید محمد، نزول احمد، نصیب اللہ، دین احمد، نور محمد، روزی احمد، رشید احمد، بلال خان،سردار محمد، آصف خان، اکبر خان،نذیر خان،نجیب خان،جلیل خان، عبداللہ، امین اللہ،غفور خان نے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ مقررین نے شمولیت کرنیوالوں کوپارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کا حصہ بن کر جاری قومی سیاسی جمہوری جدوجہد میں ہر سطح پر اپنا فعال کردار ادا کرے۔ مقررین نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے لاکھوں عوام اس وقت مسائل سے دوچار ہیں۔گیس، بجلی کی لوڈشیدنگ، صفائی کے ناقص نظام، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، پینے کے صاف پانی کی قلت، چوری ڈکیتی کی وارداتیں، منشیات کے اڈوں اور نوجوانوں کے مستقبل کو بربادی کی جانب دھکیلنے کے ناروا اقدامات جاری ہیں جن پر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔انہوں نے گزشتہ دنوں زیارت اور ہنہ اوڑک میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔اور کہاں کہ بدامنی کی صورتحال کو قابو کرنے میں حکومت ناکام ہوچکی ہے، تمام شاہراہوں پر آئے روز پشتونوں کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں، املاک اور دیگر اثاثوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات، نیز قتل و غارت گری کی بڑھتی ہوئی صورتحال نہایت تشویشناک ہیں جس سے عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور اس کا مقصد پشتون نسل کشی اور معاشی قتل عام کی پالیسی کودوام دینا ہے۔ ہم آج بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت امن و امان کے قیام، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ ساتھ ہی زیارت، ہنہ اوڑک اور دیگر متاثرہ علاقوں کے واقعات کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
