سوررینج کوئلہ کان دھماکہ: 12 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں، 30 مزدوروں کی تلاش جاری، ریسکیو آپریشن میں مشکلات

34افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے آپریشن جاری، خصوصی آلات نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا


کوئٹہ (قدرت روزنامہ) کوئٹہ کے نواحی علاقے سوررینج میں واقع کوئلہ کان میں میتھین گیس دھماکے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اب تک 12 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ 30 مزدوروں کی تلاش اور انہیں بحفاظت نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔
محکمہ مائنز اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے حکام کے مطابق جمعرات کی سہ پہر سوررینج کی مقامی کوئلہ کان میں میتھین گیس بھر جانے کے باعث دھماکہ ہوا، جس کے وقت کان کے اندر 42 مزدور موجود تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پی ڈی ایم اے، مائنز ریسکیو اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کان کے اندر مسلسل گیس کے اخراج اور خصوصی ریسکیو آلات کی عدم دستیابی کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پھنسے ہوئے مزدوروں تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں۔
صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر چیف انسپکٹر آف مائنز، پی ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کے حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچ گئے ہیں اور مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کان کے اندر پھنسے مزدوروں تک رسائی کے لیے ایگزاسٹ سسٹم چلانے اور ملبہ ہٹانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ حکومت بلوچستان ریسکیو آپریشن کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
وزیر مائنز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ متاثرہ مزدوروں کے اہل خانہ کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert