الٹی گنتی گننے کی بجائے بلاول پہلے اپنے والد اور چیئرمین سینیٹ سے استعفا لیں: عظمیٰ بخاری

لاہور(قدرت روزنامہ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بلاول پہلے اپنے والد اور چیئرمین سینیٹ سے استعفا لیں۔ آج کل بلاول بھٹو کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی، وہ چیخ چیخ کر تقریر کر رہے ہیں کیونکہ انہیں مریم نواز کی کارکردگی کا خوف کھائے جا رہا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہمارے بڑوں کی توہین کی جائے اور ہم بالکل چپ بیٹھے رہیں۔ مریم نواز آئندہ الیکشن میں وزیراعظم کی امیدوار ہو سکتی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی صلح چاہتی ہے یا جنگ، ہم دونوں کے لیے تیار ہیں۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ بلاول شارٹ ٹیمپرامنٹ کے بندے ہیں، جنہیں بات کرنے کا لحاظ نہیں۔ میثاقِ جمہوریت ہوا تھا، مگر مجھے لگتا ہے کہ اب انہوں نے خود ہی اسے اپنے پیروں تلے روند دیا ہے۔ ہمیں جواب تب دینا پڑتا ہے جب اس طرح کی بات کی جائے۔ ان کی 80 فیصد باتوں کو ہم نظر انداز کرتے ہیں اور صرف 20 فیصد کا جواب دیتے ہیں، جبکہ جہاں لائن کراس ہوتی ہے وہاں جواب دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی اپنی اپنی تاریخ ہے، پیپلز پارٹی کی بھی بہت ساری تاریخ ہے، اس لیے میں ابھی اپنا حق محفوظ رکھ رہی ہوں۔ نواب شاہ میں آپ کو اپنے گھر کی نشست کے لیے مخالف امیدوار غائب کرنا پڑے، بلدیاتی انتخابات آپ نے جس طرح چرائے وہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔ سندھ کے وڈیروں کو چاہیے کہ وہ اندرونِ سندھ کے ہاریوں اور شہریوں کو پولیس کے تسلط سے آزاد کریں، پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ الیکشن کس کو کہتے ہیں۔
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ میرپور ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں کی بات کی جا رہی ہے، مگر پیپلز پارٹی گزشتہ 40 سال سے مہاجرین کی نشستیں جیتی ہی نہیں، اور دو تاریخ کو بھی وہ دوبارہ ہاریں گے۔ اس قسم کی منہ بنا بنا کر گفتگو اور دوسروں کی تضحیک میں دلچسپی لینے کے بجائے عوام کو مسائل میں دلچسپی ہے۔ الٹی گنتی کے دعوے پہلے بھی ایک شخص کیا کرتا تھا، آج وہ کہاں بیٹھا ہے، یہ سب کے سامنے ہے۔ اصولاً بلاول صاحب کو ایسی باتیں کرنے سے پہلے ان تمام عہدوں سے استعفے لے لینے چاہییں جنہیں وہ جعلی کہتے ہیں۔ اسی حکومت نے صدرِ مملکت کو ووٹ دے کر منتخب کیا، اسی مفاہمت کے تحت گورنر پنجاب موجود ہیں۔ اگر ہماری الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے تو پھر پہلے انہیں خود گھر جانا چاہیے۔ چیئرمین سینیٹ کا عہدہ (ن )لیگ کے منہ پر مار دینا چاہیے اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کو بھی فوری طور پر استعفا دے دینا چاہیے، تاکہ پھر ہمیں بھی یقین ہو جائے کہ اگر یہ حکومت جعلی ہے تو اس کا مینڈیٹ بھی انہیں قبول نہیں۔
وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب نے کہا کہ میں ڈیڑھ ماہ پہلے کراچی گئی تھی، کراچی کی تباہی پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ پوش علاقوں میں بھی، اٹالین ایمبیسی کے قریب، کوڑے کا اتنا بڑا ڈھیر موجود تھا۔ وہ اپنے ملک میں کیا رپورٹ بھیجتے ہوں گے؟ میں نے کراچی خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، کم از کم سفارت خانوں کے اردگرد ہی صفائی کر لیں۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز وزیراعظم کی امیدوار ہو سکتی ہیں اور وہی مسلم لیگ (ن) کا مستقبل ہیں۔ وہ کس الیکشن میں امیدوار ہوں گی، اس کا فیصلہ پارٹی کرے گی، لیکن اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی ریڑھ کی ہڈی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی وہ کارکردگی ہے جو انہوں نے گزشتہ دو، سوا دو سال میں پنجاب کے اندر دکھائی ہے۔
