ہنہ اوڑک میں شہری کی ہلاکت: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کا آزادانہ تحقیقات اور فوری انصاف کا مطالبہ

کوئٹہ(قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (پی کے میپ) نے ہنہ اوڑک کے علاقے میں ریاض خان ولد خدائے نور لالہ کی ہلاکت کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ریاض خان موٹر سائیکل پر اپنے گھر جا رہے تھے جب “دو رودنہ” کے مقام پر وہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کی زد میں آ گئے، جس کے نتیجے میں ان کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ متوفی کی میت تاحال اہلِ خانہ کے حوالے نہیں کی گئی، جسے بنیادی انسانی، قانونی اور اخلاقی اصولوں کے منافی قرار دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ہنہ اوڑک، ہرنائی، دکی، زرغون غر، تکتو، شعبان، منگلہ، شاہرگ، قلعہ عبداللہ، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں مسلح گروہوں کی موجودگی عوام کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے، تاہم ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے بجائے بے گناہ شہری متاثر ہو رہے ہیں، جس سے عوام میں خوف اور عدم تحفظ بڑھ رہا ہے۔
پی کے میپ نے 5 جولائی کو ہنہ اوڑک کے کلی ببری میں ہونے والے حملے اور سانحۂ زیارت کے بعد حکومت کی جانب سے کیے گئے تحریری وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان معاہدوں پر بروقت عمل کیا جاتا تو ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکتی تھی۔
پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ریاض خان کی ہلاکت کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، میت فوری طور پر اہلِ خانہ کے حوالے کی جائے، متاثرہ علاقوں کو مسلح گروہوں سے پاک کیا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
بیان کے اختتام پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ عوام کے بنیادی، آئینی، انسانی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی سیاسی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔
