بلوچستان میں ترقیاتی نظام میں تاریخی اصلاحات، فنڈز کے استعمال کی شرح 114 فیصد تک پہنچ گئی، میر ظہور بلیدی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ دو برس کے دوران ترقیاتی منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام میں تاریخی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت، رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ پہلی مرتبہ ترقیاتی فنڈز کے 114 فیصد استعمال کی سطح تک پہنچا، جو بلوچستان کی بڑھتی ہوئی انتظامی استعداد کا واضح ثبوت ہے۔
کوئٹہ میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی کارکردگی سے متعلق پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ محکمہ نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ سالانہ پیش رفت رپورٹ جاری کی ہے، جس میں گزشتہ ڈھائی برس کے ترقیاتی پروگرام، ادارہ جاتی اصلاحات، پالیسی اقدامات اور ریگولیٹری تبدیلیوں کو جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پی ایس ڈی پی کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی آن لائن منظوری، ڈیٹا انٹیگریشن، جیو ٹیگنگ اور مانیٹرنگ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ ایک خصوصی موبائل ایپ بھی تیار کی گئی ہے، جس کے ذریعے افسران ترقیاتی منصوبوں کی سائٹ پر ہی تمام متعلقہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ونگ نے 2,022 ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 378 فیصد زیادہ ہے۔ ان اقدامات سے منصوبوں کی بروقت تکمیل، فنڈز کے شفاف استعمال اور عوام تک حقیقی فوائد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں صوبائی پی ایس ڈی پی کے تحت 6,728 ترقیاتی اسکیمیں شامل تھیں، جن کے لیے 249 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم مؤثر منصوبہ بندی اور انتظامی اصلاحات کے باعث مجموعی طور پر 283 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو مختص فنڈز کے 114 فیصد استعمال کے برابر ہے۔
میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے 206 ارب روپے کی صوبائی پی ایس ڈی پی منظور کی گئی ہے، جس میں سب سے زیادہ فنڈز محکمہ مواصلات و تعمیرات، اس کے بعد محکمہ آبپاشی اور تیسرے نمبر پر محکمہ تعلیم کو دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور معیاری تعلیم کے فروغ کو ترجیح دے رہی ہے۔
اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم نے بتایا کہ تمام پی سی ون مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر دیے گئے ہیں اور منصوبہ بندی کے تمام مراحل اب آن لائن مکمل کیے جاتے ہیں، جس سے شفافیت اور کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں مکمل ہونے والی 3,020 ترقیاتی اسکیموں کی گراؤنڈ ویریفکیشن کے دوران صرف ایک منصوبہ نامکمل پایا گیا، جسے مزید کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے پہلی مرتبہ بلوچستان کے 2010 سے 2023 تک کے سماجی و اقتصادی اشاریوں پر مبنی جامع رپورٹ تیار کی ہے، جبکہ سرکاری ملازمتوں کے خواہشمند 2 لاکھ 39 ہزار امیدواروں کا ضلع، صنف اور تعلیمی بنیادوں پر ڈیٹا بھی مرتب کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں روزگار اور ترقیاتی پروگرام زیادہ مؤثر انداز میں تشکیل دیے جا سکیں۔
